Skip to content
♪
Duration3:34

انسان کا کارواں

نورِ انسان

Sufi Rock

About

یہ گیت صوفی راک کا ایک شاہکار ہے جس میں طبلے کی روایتی تھاپ کو برقی گٹار کی گہری دھنوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور اونچے سروں میں گائی گئی شاعری انسانیت اور وحدانیت کا پیغام دیتی ہے۔

Lyrics

محمود بیاک سورتیاک عیس صرف ایک پل کا تھکانہ ہی سکھے ہیں یوں کہیں گہر کیوں یہ دلوں میں فاصل پر آنا ہے کوئی غریب ہے کوئی شاہ جہاں ہے سکیر گمی کیا ہی خم روا ہے نہ کوئی ذات نہ کوئی انچ نچ کی قیدان سنکھا بس انسان ہی تو کارواں ہے ہاتھ بودنگا کر دی کہ اس میں رب کی جلک ہے ہر ایک سانس میں زندگی کی مکہ ہے محبت کے سوا سب کچھ ہی فانی ہے یہ دنیا تو بس ایک چلتی ہوئی ستوحہ ہے انسان کو انسان سے جھوٹنا سیکھ لے دلوں کے ہر دریپن کو دھوڑنا سیکھ لے یہ زندگی ہے اکا منت اسے نہ بھاہر چہرے میں اپنا ہی اکس تھونٹنا سیکھ لے نہ پوچھ مذاب نہ پوچھ اس پاتھا کیا ہے جیسے تو دھون تو زیوہ تو تجمیم بسا ہے درد کھسی کا بندل تو پائے گا سکونی ہی تو اسمیم بندگی کا راستہ ہے دیوار انگرانے کا وقت آ گیا ہے ہر دل منچ راہ چلانے کا وقت آ گیا ہے اتفرقات کو مٹا کریں ہو جائیں یہاں محبت کا مپیلانے کا وقت آ گیا موسیقی انسن کو انسن سے جوڑنا سیکھ لے دلوں کے ہر درے پن کو دوڑنا سیکھ لے یہ زندگی ہے اکا منت اسے نہ بھاہر چہرے میں اپنا ہی اکس تھونٹنا سیکھ لیتا ہے سب ایک ہی نہیں سب ایک ہی ہنٹی سے آئے مٹی نہیں کھو گیا محبت ہی باقی ہے باقی سب خواب یا انسن ہی انسن کا سہارا ہے بس یہی ایک سچ ہمارا ہے موسیقی

انسان کا کارواں

نورِ انسان

Preview