Skip to content
سپردگی کا سفر
Duration3:39

سپردگی کا سفر

بت شکن

Sufi Rock

About

ایک جذباتی صوفی راک ترانہ جس میں طبلہ کی روایتی تھاپ اور الیکٹرک گٹار کی گہری ڈسٹورشن کا امتزاج ہے۔ گانے میں ہارمونیم کی مدھر دھنیں اور گلوکار کی بلند آواز میں روحانی کیفیت کو پیش کیا گیا ہے جو مکمل سپردگی کے احساس کو اجاگر کرتی ہے۔

Lyrics

intro

مٹ گئے سب نشان میرےخالی ہوا ہے یہ وجود میرااب تو بس تو ہی باقی ہے

verse 1

میں نے چھوڑی ہے اپنی ہر اک ضدمیں نے توڑا ہے خود کا یہ بتجو بھی تھا میرا، سب لٹا دیاتیری راہ میں سر کو جھکا دیاکوئی خواہش نہیں، کوئی طلب نہیںاب مجھ میں میرا کوئی رنگ نہیں

pre-chorus

تیرے رنگ میں رنگ جانے دےمجھے خود سے دور جانے دے

chorus

سپردگی کا یہ سفر ہے، مٹا دے مجھےاپنے ہی عشق میں اب تو، جلا دے مجھےمیں تو مٹی ہوں، تیرے قدموں کی دھولاپنی مرضی سے اب تو، ملا دے مجھے

verse 2

کیسی انا تھی، کیسا یہ غرور تھاتیری حقیقت سے میں کتنا دور تھااب جو دیکھا تو سب سراب نکلامیرا ہونا ہی ایک عذاب نکلاتیری دہلیز پر سر رکھ دیا ہے میں نےاپنے سب خواب تیرے نام کر دیے

chorus

سپردگی کا یہ سفر ہے، مٹا دے مجھےاپنے ہی عشق میں اب تو، جلا دے مجھےمیں تو مٹی ہوں، تیرے قدموں کی دھولاپنی مرضی سے اب تو، ملا دے مجھے

bridge

نہ کوئی رستہ، نہ کوئی منزلبس تو ہی ہے، میرے اندرتیری خاموشی میں سب کچھ سن لیامیں نے خود کو تجھ میں ہی چن لیا

instrumental-solo
chorus

سپردگی کا یہ سفر ہے، مٹا دے مجھےاپنے ہی عشق میں اب تو، جلا دے مجھےمیں تو مٹی ہوں، تیرے قدموں کی دھولاپنی مرضی سے اب تو، ملا دے مجھے

outro

خالی ہاتھ، خالی ذہنتیرا ہی نام، تیری ہی دیناب میں نہیں، اب میں نہیںبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے

سپردگی کا سفر

بت شکن

Preview