سپردگی کا سفر
بت شکن
Sufi Rock
About
ایک جذباتی صوفی راک ترانہ جس میں طبلہ کی روایتی تھاپ اور الیکٹرک گٹار کی گہری ڈسٹورشن کا امتزاج ہے۔ گانے میں ہارمونیم کی مدھر دھنیں اور گلوکار کی بلند آواز میں روحانی کیفیت کو پیش کیا گیا ہے جو مکمل سپردگی کے احساس کو اجاگر کرتی ہے۔
Lyrics
مٹ گئے سب نشان میرےخالی ہوا ہے یہ وجود میرااب تو بس تو ہی باقی ہے
میں نے چھوڑی ہے اپنی ہر اک ضدمیں نے توڑا ہے خود کا یہ بتجو بھی تھا میرا، سب لٹا دیاتیری راہ میں سر کو جھکا دیاکوئی خواہش نہیں، کوئی طلب نہیںاب مجھ میں میرا کوئی رنگ نہیں
تیرے رنگ میں رنگ جانے دےمجھے خود سے دور جانے دے
سپردگی کا یہ سفر ہے، مٹا دے مجھےاپنے ہی عشق میں اب تو، جلا دے مجھےمیں تو مٹی ہوں، تیرے قدموں کی دھولاپنی مرضی سے اب تو، ملا دے مجھے
کیسی انا تھی، کیسا یہ غرور تھاتیری حقیقت سے میں کتنا دور تھااب جو دیکھا تو سب سراب نکلامیرا ہونا ہی ایک عذاب نکلاتیری دہلیز پر سر رکھ دیا ہے میں نےاپنے سب خواب تیرے نام کر دیے
سپردگی کا یہ سفر ہے، مٹا دے مجھےاپنے ہی عشق میں اب تو، جلا دے مجھےمیں تو مٹی ہوں، تیرے قدموں کی دھولاپنی مرضی سے اب تو، ملا دے مجھے
نہ کوئی رستہ، نہ کوئی منزلبس تو ہی ہے، میرے اندرتیری خاموشی میں سب کچھ سن لیامیں نے خود کو تجھ میں ہی چن لیا
سپردگی کا یہ سفر ہے، مٹا دے مجھےاپنے ہی عشق میں اب تو، جلا دے مجھےمیں تو مٹی ہوں، تیرے قدموں کی دھولاپنی مرضی سے اب تو، ملا دے مجھے
خالی ہاتھ، خالی ذہنتیرا ہی نام، تیری ہی دیناب میں نہیں، اب میں نہیںبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے
سپردگی کا سفر
بت شکن
Preview