Skip to content
Duration3:37

عشق کی بندگی

بےخودی

Sufi Rock

About

یہ گیت روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ الیکٹرک گٹار کا گہرا ڈسٹورشن شامل ہے۔ بلند آہنگ اور جذباتی آواز میں گائی گئی یہ تخلیق خود کو مٹا کر محبوبِ حقیقی میں گم ہو جانے کے سفر کو بیان کرتی ہے۔

Lyrics

intro

میں خاک ہوں، میں راکھ ہوں، میں کچھ نہیںجو تھا میرا، وہ اب کہاں، میں کچھ نہیں

verse 1

در بدر پھرتا رہا، اپنی ہی انا کے حصار میںتلاش تھی مجھے اپنی، کسی انجان سے دیار میںتھک گئے میرے قدم، بوجھ اٹھائے ہوئے خود کااب تو بس اک پیاس ہے، تیرے ہی انتظار میں

pre-chorus

میں نے چھوڑ دیا ہے اب، خود کو سنبھالناتیرے رنگ میں خود کو، مکمل ڈھالنا

chorus

سپردگی، سپردگی، یہ عشق کی ہے بندگیمیں مٹ گیا تو پا لیا، خود کو تیرے ہی نام سےسپردگی، سپردگی، یہ روح کی ہے تازگیجو تھا غرور میرا، بکھر گیا ہے اب تیرے ہی جام سے

verse 2

کیسے کہوں کہ میں کون ہوں، کیا ہوں میرا وجود کیاتیری نظر جو پڑ گئی، تو مٹ گیا سارا سُود کیامیں نے تو اپنی ذات کو، تیرے حوالے کر دیااب تو جو بھی فیصلہ کرے، مجھے منظور ہے سب کچھ

pre-chorus

میں نے چھوڑ دیا ہے اب، خود کو سنبھالناتیرے رنگ میں خود کو، مکمل ڈھالنا

chorus

سپردگی، سپردگی، یہ عشق کی ہے بندگیمیں مٹ گیا تو پا لیا، خود کو تیرے ہی نام سےسپردگی، سپردگی، یہ روح کی ہے تازگیجو تھا غرور میرا، بکھر گیا ہے اب تیرے ہی جام سے

bridge

کوئی رستہ نہیں، کوئی منزل نہیںبس تو ہی تو ہے، اور کوئی محفل نہیںمیں قطرہ بن کے گرا تھا تیری ہی وسعت میںاب دریا ہوں میں، کوئی ساحل نہیں

instrumental-solo
chorus

سپردگی، سپردگی، یہ عشق کی ہے بندگیمیں مٹ گیا تو پا لیا، خود کو تیرے ہی نام سےسپردگی، سپردگی، یہ روح کی ہے تازگیجو تھا غرور میرا، بکھر گیا ہے اب تیرے ہی جام سے

outro

میں مٹ گیا، میں پا گیاتیرے رنگ میں، میں آ گیاسب کچھ تیرا، کچھ نہیں میرابس تیرا ہی نام، اب ہے میرا

عشق کی بندگی

بےخودی

Preview

عشق کی بندگی by بےخودی | EchoLoRA: Generate a Song with AI