ہار کی جیت
عشقِ فنا
Sufi Rock
About
یہ گانا روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنیں برقی گٹار کی گونج کے ساتھ مل کر ایک جذباتی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ گلوکار کی اونچی سروں میں ادائیگی روحانیت اور مکمل سپردگی کے احساس کو اجاگر کرتی ہے۔
Lyrics
میں نے خود کو مٹایا ہے تیرے نام پرسارے بندھن توڑ دیے تیرے کام پرمیری ہستی کا ہر ذرہ اب تیرا ہےمیں نے دستک دی ہے تیرے درِ عام پر
اب نہ کوئی ضد ہے نہ کوئی سوال ہےتیرے رنگ میں رنگا میرا ہر ایک حال ہے
میں نے ہار کے خود کو جیت لیاتیرے عشق کا ساقی زہر پی لیاسپرد کر دیا سب کچھ تیرے حضور میںمیں نے اپنی انا کو خود ہی سی لیا
خودی کا پردہ ہٹایا تو تو ہی نظر آیامیں بھٹکتا رہا اور تو نے ہی مجھے بلایاکوئی فاصلہ نہیں اب میرے اور تیرے بیچمیں نے ہر دکھ کو گلے سے لگایا
اب نہ کوئی ضد ہے نہ کوئی سوال ہےتیرے رنگ میں رنگا میرا ہر ایک حال ہے
میں نے ہار کے خود کو جیت لیاتیرے عشق کا ساقی زہر پی لیاسپرد کر دیا سب کچھ تیرے حضور میںمیں نے اپنی انا کو خود ہی سی لیا
مٹ گیا میں تو ہی باقی رہامیری روح میں تیرا ہی راگ جاگانہ میں رہا نہ میری کوئی پہچان رہیبس تیری ذات کا نور ہی ہر سو چھایا
میں نے ہار کے خود کو جیت لیاتیرے عشق کا ساقی زہر پی لیاسپرد کر دیا سب کچھ تیرے حضور میںمیں نے اپنی انا کو خود ہی سی لیا
سب تیرا ہے، سب تیرا ہےمیرا وجود اب تیرا ہی سہارا ہےمیں مٹ گیا، میں مٹ گیابس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے
ہار کی جیت
عشقِ فنا
Preview