وصلِ لا زوال
استاد عارفِ فنا قوال
صوفیانہ قوالی
About
یہ قوالی ایک گہرے صوفیانہ تجربے پر مبنی ہے جس میں ہارمونیم کی مسلسل گونج اور طبلے کے تال کے ساتھ بتدریج تیزی آتی ہے۔ آواز کا اتار چڑھاؤ اور سوال و جواب کا انداز روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرتا ہے، جو آخر میں ایک پرجوش عروج پر منتج ہوتا ہے۔
Lyrics
میں کون ہوں، تیرا ہی عکس ہوںتیری طلب میں، خود سے برہم ہوںمٹ گیا ہے فاصلہ، اب تو ہی تو ہےتیرے نور میں، میں گم صم ہوں
میں تو اک بوند تھا، سمندر میں مل گیاتیری ذات کی تپش میں، میرا وجود جل گیانہ کوئی نام رہا، نہ کوئی نشان باقی ہےتیری محبت کا رنگ، مجھ میں ڈھل گیا
ملاپ کا لمحہ ہے، یہ وصال کا عالم ہےتجھ میں فنا ہونا، اب میرا ہی مرہم ہےتو ہی پہلا، تو ہی آخری، تو ہی میرا کلامتیرے عشق میں ڈوبنا، اب میرا ہی دم ہے
ہوش و خرد کی زنجیریں، میں نے توڑ دی ہیںراہِ طلب میں، سب نشانیاں چھوڑ دی ہیںاب تو بس تیرا نام، میری زبان پر ہےتیرے اشارے پر، دنیا کی رسمیں موڑ دی ہیں
میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری رگ رگ میں، تیری ہی جستجو ہےقطرہ دریا میں مل کر، خود دریا ہو گیایہ کیسا وصل ہے، جو میری آرزو ہے
مٹ گیا میں، تیری ذات میں سمایاتیرے سوا کچھ نہ دیکھا، کچھ نہ پایااب تو صرف تو ہے، اب تو صرف تو ہےتیرے عشق کا دیا، دل میں جلایا
وصلِ لا زوال
استاد عارفِ فنا قوال
Preview