Skip to content
समाज का मायाजाल
Duration3:43

समाज का मायाजाल

आर्यन शर्मा

Bollywood

About

यह गीत एक गहन सामाजिक ड्रामा है जिसमें तबले की थाप और तार वाद्ययंत्रों (strings) का बेहतरीन मिश्रण है। गीत में भावनात्मक तीव्रता और राग-आधारित धुनें हैं जो एक आधुनिक बॉलीवुड सिनेमाई अनुभव प्रदान करती हैं।

Lyrics

ہوا میں گولی ہے پرانی بیب سیدھی باروں انہیں سنی ہے گھار کی خاموشی رشتوں کی دور الجی ہے دھاگوں میں سچ چھپا ہے جھوٹے وعدوں میں چوکر پہ کھڑے ہو کر کیا پایا ہے ہم نے پنوں سے فاصلے بڑے ہیں ہم نے چہرے پر مسکان کا مکھوٹا سجا کر اندر ہی اندر خود کو جلائے ہیں ہم نے سماج کی ان پیڑیوں کا بوجھ بھاری ہے اپنی ہی آج خود سے ہی ہاری ہے کون اپنا ہے اور کون پڑایا یہاں بھیر میں کھویا ہے اپنا سایا یہاں سب کی نظر میں گھٹ کو توڑتے رہے ہم دو بس لکیروں کو کھولتے رہے یہ سماج کا کیسا مایہ جال آستے چہروں کے پیچھے کتنا ملال ہے رشتوں کی مریادہ میں گھٹن سی ہوتی ہے ست لوگ کی آنکھوں میں آج نمی سی ہے بدلنا ہے ہم کو یہ دستور پران اپنوں کے بیچ اب نہیں ہے کبران موسیقی سانسے لے رہے آزاد ہونا ہے کل کی فکر چھوڑ خود کا ہونا ہے یہ سماج اب ہمیں اور نہ روکے گا سچائی کا سوچ اب نہ کبھی سوئے گان کوئی بندھن نہ کوئی بیڑیاں کھڑی ہواوں میں اب اپنی گھڑ کھڑی ہواوں میں اپنی گھڑیاں ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی ہواں میں اپنی گھڑی

समाज का मायाजाल

आर्यन शर्मा

Preview

समाज का मायाजाल by आर्यन शर्मा | EchoLoRA: Generate a Song with AI