Skip to content
Duration3:30

AI Song: صوفیانہ کلام (song 1/25)

Mast Qalandar

صوفیانہ کلام

About

An original original track based on the theme "صوفیانہ کلام (song 1/25)".

Lyrics

intro

میں ہوں، وہ ہے، اور یہ خالی پنخودی مٹی، اب صرف وہی ہےنظر میں جلوہ، دل میں ہے درپن

verse

میں تو خود سے بچھڑ گیا ہوںاُس کی طلب میں سنور گیا ہوںکوئی نہیں اب میرے اندرمیں تو اُس کے رنگ میں بھر گیا ہوںہوش کے پردے چاک ہوئے ہیںمیں اپنی ہی ذات سے گزر گیا ہوں

chorus

مستی ایسی، رستہ کھویادیکھا اُس کو، خود کو سویاوجد کا عالم، کیف کی موجیںمیں تو اُس کے عشق میں رویامستی ایسی، رستہ کھویا

verse

ذکر کی تسبیح، سانس کی ڈوریمجھ میں سمائی اُس کی پوریکوئی دوری، کوئی دامن نہیںمٹ گئی میری ہستی کی مجبوریوہ جو قریب تھا، وہیں پایاختم ہوئی ہے یہ دوری، یہ دوری

chorus

مستی ایسی، رستہ کھویادیکھا اُس کو، خود کو سویاوجد کا عالم، کیف کی موجیںمیں تو اُس کے عشق میں رویامستی ایسی، رستہ کھویا

instrumental bridge

(تاروں کی گونج، رقصِِِ

AI Song: صوفیانہ کلام (song 1/25)

Mast Qalandar

Preview

AI Song: صوفیانہ کلام (song 1/25) by Mast Qalandar | EchoLoRA: Generate a Song with AI