AI Song: صوفیانہ کلام (song 1/25)
Mast Qalandar
صوفیانہ کلام
About
An original original track based on the theme "صوفیانہ کلام (song 1/25)".
Lyrics
میں ہوں، وہ ہے، اور یہ خالی پنخودی مٹی، اب صرف وہی ہےنظر میں جلوہ، دل میں ہے درپن
میں تو خود سے بچھڑ گیا ہوںاُس کی طلب میں سنور گیا ہوںکوئی نہیں اب میرے اندرمیں تو اُس کے رنگ میں بھر گیا ہوںہوش کے پردے چاک ہوئے ہیںمیں اپنی ہی ذات سے گزر گیا ہوں
مستی ایسی، رستہ کھویادیکھا اُس کو، خود کو سویاوجد کا عالم، کیف کی موجیںمیں تو اُس کے عشق میں رویامستی ایسی، رستہ کھویا
ذکر کی تسبیح، سانس کی ڈوریمجھ میں سمائی اُس کی پوریکوئی دوری، کوئی دامن نہیںمٹ گئی میری ہستی کی مجبوریوہ جو قریب تھا، وہیں پایاختم ہوئی ہے یہ دوری، یہ دوری
مستی ایسی، رستہ کھویادیکھا اُس کو، خود کو سویاوجد کا عالم، کیف کی موجیںمیں تو اُس کے عشق میں رویامستی ایسی، رستہ کھویا
(تاروں کی گونج، رقصِِِ
AI Song: صوفیانہ کلام (song 1/25)
Mast Qalandar
Preview