فنا کا رقص
سید سجاد علی شاہ
صوفیانہ کلام
About
یہ کلام ایک گہرے روحانی تجربے کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہارمونیم کا مستقل ڈرون اور طبلے کے روایتی تالوں کا امتزاج ہے۔ گلوکار کی جذباتی اور پیچیدہ آواز (melismatic vocal phrasing) صوفیانہ کیفیت کو اجاگر کرتی ہے، جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
ذات کے صحرا میں بھٹکتا رہامیں خود سے ہی خود کو میں ڈھونڈتا رہاوہ جو نہاں تھا کہیں دل کے اندراس کی طلب میں میں تو جلتا رہا
آنکھوں میں اشکوں کا اک سیل رواںخوابوں میں کھویا ہے سارا جہاںکیسی یہ مستی ہے کیسا نشہخود سے ہی بیگانہ ہوا ہے کارواںتیری تجلی کا یہ کیسا عکس ہےذرے ذرے میں تیرا ہی رقص ہے
مست ہوا میں، مست فضا میںگم ہوں میں اب تو تیری ادا میںدل کی لگی نے کیا ہے دیوانہڈوب گیا ہوں میں تو فنا میںعشق کی حد ہے، دید کا عالمکھو گیا خود کو میں تو بقا میں
تسبیح کے دانوں میں ڈھونڈوں تجھےیا سجدے میں اپنی ہی سوچوں تجھےتیرے سوا کچھ بھی نظر نہ آئےکیسے بھلاؤں میں اب تو تجھےخودی کا پردہ جو ہٹ جائے توہر ایک چہرے میں پاؤں تجھے
نور ہی نور ہے، حد سے آگےدل کی دھڑکن بھی اب تو جاگےکون ہے میں ہوں یا تو ہے یہاںمٹ گئے سارے ہی اب تو دھاگےرقص میں عالم، مستی میں روحعشق کی آگ میں سب کچھ جلا کے
مست ہوا میں، مست فضا میںگم ہوں میں اب تو تیری ادا میںدل کی لگی نے کیا ہے دیوانہڈوب گیا ہوں میں تو فنا میںعشق کی حد ہے، دید کا عالمکھو گیا خود کو میں تو بقا میں
میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی رہادل کی زمین پر بس تو ہی بساخاموشیوں میں بھی تیری صدامست ہوا، میں تو مست ہوابس تو ہی رہا، بس تو ہی رہا
فنا کا رقص
سید سجاد علی شاہ
Preview