Skip to content
Duration3:15

سپرِ ذات

روحانی حزیں

صوفیانہ کلام

About

یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی مسلسل گونج اور طبلے کے روایتی تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ گلوکار کی جذباتی اور پرسوز آواز، جو کہ میلزماتی انداز میں ادا کی گئی ہے، سننے والے کو ایک روحانی کیفیت اور خود کو مٹانے کے سفر پر لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

میں خاک ہوا، میں راکھ ہواتیری چاہ میں سب کچھ خاک ہوامٹ گئے ہم، ہستی مٹیبس تو ہی تو، تیری ذات رہی

verse

میں ڈھونڈتا تھا خود کو جن گلیوں میںوہ راستے اب ویران پڑے ہیںمیں نے توڑا ہے ہر ایک بت دل کااب تیرے نام کے سجدے کھڑے ہیںمیری انا کی دیواریں گر گئیںتیری دید کی پیاس میں سب بکھر گئیں

chorus

سپر کیا خود کو تیرے حضور میںمٹا دیا خود کو تیرے نور میںنہ میں رہا، نہ میری کوئی بات رہیبس تیری یاد، تیری ہی ذات رہیسپر کیا خود کو تیرے حضور میں

verse

میری سوچ کے تار اب ٹوٹتے ہیںتیرے عشق میں سب کچھ چھوٹتے ہیںنہ کوئی منزل، نہ کوئی راستہ ابتیرے ہی قدموں میں خواب سوتے ہیںمیں تو بس تیرا ایک عکسِ بے رنگ ہوںتیرے رنگ میں رنگنے کو تیار ہوں

chorus

سپر کیا خود کو تیرے حضور میںمٹا دیا خود کو تیرے نور میںنہ میں رہا، نہ میری کوئی بات رہیبس تیری یاد، تیری ہی ذات رہیسپر کیا خود کو تیرے حضور میں

instrumental bridge
خاموشی میں تیرا ہی ذکر ہے
ہر سانس میں تیرا ہی فکر ہے
climax

میری ہستی کا ہر ایک ذرہ پکارےمجھے ڈوبنے دے تیرے ہی سہارےمیں مٹ کے بھی تجھ میں جی جاؤں گامیں خود کو تجھ میں ہی پا جاؤں گالے لے مجھے، اب تو اپنا بنا لےمیرے وجود کو مٹا کے خود میں بسا لے

outro

سب کچھ تیرا، کچھ بھی نہیں میرابس تو ہی تو، تیرا ہی ڈیرامیں مٹ گیا، میں مٹ گیاتجھ میں ہی کھو گیاتجھ میں ہی کھو گیا۔

سپرِ ذات

روحانی حزیں

Preview

سپرِ ذات by روحانی حزیں | EchoLoRA: Generate a Song with AI