سپرِ ذات
روحانی حزیں
صوفیانہ کلام
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی مسلسل گونج اور طبلے کے روایتی تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ گلوکار کی جذباتی اور پرسوز آواز، جو کہ میلزماتی انداز میں ادا کی گئی ہے، سننے والے کو ایک روحانی کیفیت اور خود کو مٹانے کے سفر پر لے جاتی ہے۔
Lyrics
میں خاک ہوا، میں راکھ ہواتیری چاہ میں سب کچھ خاک ہوامٹ گئے ہم، ہستی مٹیبس تو ہی تو، تیری ذات رہی
میں ڈھونڈتا تھا خود کو جن گلیوں میںوہ راستے اب ویران پڑے ہیںمیں نے توڑا ہے ہر ایک بت دل کااب تیرے نام کے سجدے کھڑے ہیںمیری انا کی دیواریں گر گئیںتیری دید کی پیاس میں سب بکھر گئیں
سپر کیا خود کو تیرے حضور میںمٹا دیا خود کو تیرے نور میںنہ میں رہا، نہ میری کوئی بات رہیبس تیری یاد، تیری ہی ذات رہیسپر کیا خود کو تیرے حضور میں
میری سوچ کے تار اب ٹوٹتے ہیںتیرے عشق میں سب کچھ چھوٹتے ہیںنہ کوئی منزل، نہ کوئی راستہ ابتیرے ہی قدموں میں خواب سوتے ہیںمیں تو بس تیرا ایک عکسِ بے رنگ ہوںتیرے رنگ میں رنگنے کو تیار ہوں
سپر کیا خود کو تیرے حضور میںمٹا دیا خود کو تیرے نور میںنہ میں رہا، نہ میری کوئی بات رہیبس تیری یاد، تیری ہی ذات رہیسپر کیا خود کو تیرے حضور میں
میری ہستی کا ہر ایک ذرہ پکارےمجھے ڈوبنے دے تیرے ہی سہارےمیں مٹ کے بھی تجھ میں جی جاؤں گامیں خود کو تجھ میں ہی پا جاؤں گالے لے مجھے، اب تو اپنا بنا لےمیرے وجود کو مٹا کے خود میں بسا لے
سب کچھ تیرا، کچھ بھی نہیں میرابس تو ہی تو، تیرا ہی ڈیرامیں مٹ گیا، میں مٹ گیاتجھ میں ہی کھو گیاتجھ میں ہی کھو گیا۔
سپرِ ذات
روحانی حزیں
Preview