نورِ ازل کا جلوہ
سید زاہد علی قادری
صوفیانہ کلام
About
ایک روحانی صوفیانہ کلام جو ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلہ کے روایتی تالوں پر مبنی ہے۔ اس میں جذباتی اور پرسوز آواز کے ساتھ میلزماتی انداز کو شامل کیا گیا ہے جو درگاہ کے ماحول کی یاد دلاتا ہے۔
Lyrics
نورِ ازل کا جلوہ ہے وہہر دل کا ٹھکانہ ہے وہذکرِ نبی سے مہکے فضاجانِ جہاں کا دیوانہ ہے وہ
تیرے در کی خاک کو چوموں میںاپنی ہستی کو تیری یاد میں گھولوں میںتیری الفت کا ایسا نشہ چھایا ہےخود کو تیرے عشق میں اب بھولوں میںتیری ذات ہے روشن ہر ایک سوتیری پناہ میں ہر دکھ کو تولوں میں
یا مصطفیٰ، یا مجتبیٰ، تجھ پہ لاکھوں سلامتیرا نام ہی ہے سکونِ دل، تیرا نام ہی ہے قیامتیرے قدموں کی دھول سے روشن ہے کائناتتیری چوکھٹ پہ ہی سجتا ہے میرا ہر ایک کام
تیری رحمتوں کا سایہ ہے ہم پر سداتیرے بغیر تو زندگی ہے اک بڑی خطاتیری نگاہِ کرم ہو تو غم کا کیا کامتیری راہوں میں ہی ڈھونڈوں میں اپنی بقاتیری سیرت کے پھول کھلیں دل کے باغ میںتیری یاد میں ہی گزرے میری ہر اک صبح و مسا
یا مصطفیٰ، یا مجتبیٰ، تجھ پہ لاکھوں سلامتیرا نام ہی ہے سکونِ دل، تیرا نام ہی ہے قیامتیرے قدموں کی دھول سے روشن ہے کائناتتیری چوکھٹ پہ ہی سجتا ہے میرا ہر ایک کام
نورِ خدا کا مظہر ہے وہعالم کا سب سے بہتر ہے وہجس نے دیکھا اسے، وہ خود کو بھول گیااتنا حسین، اتنا منور ہے وہیا رسول اللہ، میری بگڑی بنا دےتیرے سوا اب کوئی نہ میرا در ہے وہ
تجھ پہ لاکھوں سلامتجھ پہ لاکھوں درودمیری سانسوں میں ہے تیرا ہی نامتجھ پہ لاکھوں سلامتجھ پہ لاکھوں سلام
نورِ ازل کا جلوہ
سید زاہد علی قادری
Preview