Skip to content
Duration3:45

گدائے درِ مصطفیٰ

غلام مصطفیٰ نقشبندی

صوفیانہ کلام

About

یہ کلام ایک گہرا روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کے ڈرون اور طبلے کے روایتی تالوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں صوفیانہ انداز کی جذباتی اور پیچیدہ سروں والی گلوکاری شامل ہے جو سامعین کو ایک پرسکون اور وجدانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

یا رب دلِ بے چین کو قرار عطا کرمیری آنکھوں کو دید کا انتظار عطا کروہ جو رحمتِ عالم ہیں، ان کا ذکر چھیڑمیری سانسوں کو وہ کیف و خمار عطا کر

verse 1

تیری آمد سے روشن ہوا ہے سارا جہاںتیرے قدموں کی دھول ہے عرشِ بریں کا نشاںتجھ سا نہ کوئی آیا ہے، نہ آئے گا کبھیتو ہی ہے اول و آخر، تو ہی ہے جانِ جہاں

chorus

یا مصطفیٰ، تیرے در کا گدا ہوں میںتیری الفت میں کھویا ہوا ہوں میںتیری نعتیں پڑھنا ہی میری عبادت ہےتیرے عشق میں ہی فنا ہوا ہوں میں

verse 2

تیری رحمت کی بارشیں برسیں ہر سوتیرے حسنِ اخلاق سے مہک رہا ہے ہر کوغم کے ماروں کو تو نے گلے لگایا ہےتیرے صدقے میں ملی ہے سب کو آبرو

chorus

یا مصطفیٰ، تیرے در کا گدا ہوں میںتیری الفت میں کھویا ہوا ہوں میںتیری نعتیں پڑھنا ہی میری عبادت ہےتیرے عشق میں ہی فنا ہوا ہوں میں

instrumental bridge
climax

مدینے کی گلیاں، وہ ٹھنڈی ہوائیںتیری یاد میں اب میری آنکھیں بھر آئیںکاش میں بھی پہنچ جاؤں تیرے روضے پرتیرے قدموں میں ہی میری روح سمائے

chorus

یا مصطفیٰ، تیرے در کا گدا ہوں میںتیری الفت میں کھویا ہوا ہوں میںتیری نعتیں پڑھنا ہی میری عبادت ہےتیرے عشق میں ہی فنا ہوا ہوں میں

outro

تیرے نام پر ہی میری زندگی کا اختتام ہوتیرے ذکر سے ہی لبوں پر مسکان ہویا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰتیرے در پر ہی میری پہچان ہو

گدائے درِ مصطفیٰ

غلام مصطفیٰ نقشبندی

Preview

گدائے درِ مصطفیٰ by غلام مصطفیٰ نقشبندی | EchoLoRA: Generate a Song with AI