کرم کی ایک نظر
غلامِ رحیم
Hamd
About
یہ حمد ایک پرسکون اور روحانی تجربہ ہے جس میں روایتی ہارمونیم کی گہرائی اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کا امتزاج ہے۔ آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے تاکہ کلام کی عاجزی اور اللہ کی رحمت کے احساس کو پوری طرح اجاگر کیا جا سکے۔
Lyrics
تیرے در کا گداہو میرے کرم کی ایک نظر کر دے میری توٹی توٹی ہوئی کشتی کو ساحل کی خبر کر دے میں بٹکا ہوں اندھیروں میں کوئی رست نہیں ملتا تیرے ذکر کے گلشن میں کوئی پودا نہیں کھلتا خطا پاروں کی بستی میں امیدوں کا دیا جلد میری تنہانی کے ہائی سہرہ میں رحمت کی گہتا کر دے تُو ہی رحیم ہے مولا تُو ہی کریم ہے مولا تیری کی وساطے سے ہے تیری بہش کے ساغرمی ہر ایک فریاد بہتوہاں ہے میری ان کو کیا نہ سونی تیری جو سٹوپ نہ ہمارے مالک میری تو میں میری فریاد قبول کر لے مین آدھا ہوں مین کفل ہوں تیری رحمت کا طالب ہوں میری اپنی ساتھ کے پنجر میں خود ہی قید خالب ہوں میری سنجیر غفلت کو اپنے کرم سے توڑ دے مولا میری روح کے ویرانے کو نور سے اب تُو بر دے مولا تُو ہی رحیم ہے مولا تُو ہی رحیم ہے مولا میری روح کے ویرانے کو نور سے اب تُو بر دے مولا تُو ہی رحیم ہے مولا میری روح کے ویرانے کو نور سے اب تُو بر دے مولا کی وسائل سے ہی تیری بخش کے ساگرمی ہر اکفریان بہتا ہے میری ان کو کیا نہ سونی تیری جو سٹوپ نہ ہمارے مالک میری تو میں میری فریاد قبول کر لے نہ کوئی اون ہے میرا نہ کوئی اون ہے میرا بیٹی تہکان ہے تیرے در کی دلی سے میرا آستان ہے گناہوں کہ بجھ تل چکا ہے سر میرا اب تم رے مالک میری لفظش کو زش کو اپنی شان سے معاف کر دے تُو ہی رحیم ہے مولا تُو ہی کریم ہے مولا میری کی وسائل سے مولا میری تیرے دلی سے یہ تیری بغش کے ساگرمی ہر اکفریان بہتا ہے میری ان کو کیا نہ سونی تیری جو سٹوپ نہ ہمارے مالک میری تو میں میری فریاد قبول کر لے تیری رحمت کو سائے ہو میرے ہر کلمحے پر تیرے ہی نام پر ختم ہو میری زندگی کوئی کش دیکھو قصر نہ سا کرم کردے
کرم کی ایک نظر
غلامِ رحیم
Preview