تیرے نام سے روشن
نور رحمت
Hamd
About
ایک پرسکون اور روحانی حمد جو روایتی ہارمونیم کی دھن اور طبلہ کی تال پر مبنی ہے۔ اس میں آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جس سے عبادت کا ایک گہرا اور پروقار ماحول پیدا ہوتا ہے۔
Lyrics
تیرے نام سے روشن ہے ہر ایک ذرہ کائنات کاتیری ہی ذات ہے محور، تیری ہی قربت ہے سہارا
اندھیروں میں بھی تو نے دیا ایک دیا روشن رکھامیری ہر بے چینی کو تو نے سکون کا دامن دیامیں بھٹکتا رہا دنیا کی رنگینیوں کی دھوپ میںتو نے ہی سایہ بن کر میری روح کو ٹھنڈک دیمیری سوچ کی حدوں سے پرے تیرا کرم ہےمیری خاموشیوں میں بھی تیرا ہی ذکر پیہم ہے
تجھ پر ہی بھروسہ ہے، تجھ سے ہی امید ہےتیری رحمتوں کی بارش، میری زندگی کی عید ہےاے مالکِ کل، تیری عظمت کو سلام ہےتیری ہی رضا میں، میری بخشش کا مقام ہے
جب بھی گرنے لگا تو نے تھام لیا میرا ہاتھتنہائی کے لمحوں میں بھی رہا تو میرے ساتھنہ کوئی مانگ ہے باقی نہ کوئی طلب ہے دل میںتیرے دیدار کی تڑپ ہے بس میری ہر منزل میںمیں خاک ہوں، تو نے مجھے ایک پہچان بخشیمیری خطا کار نظروں کو تو نے ایمان کی شان بخشی
تجھ پر ہی بھروسہ ہے، تجھ سے ہی امید ہےتیری رحمتوں کی بارش، میری زندگی کی عید ہےاے مالکِ کل، تیری عظمت کو سلام ہےتیری ہی رضا میں، میری بخشش کا مقام ہے
یہ سانسیں، یہ دھڑکنیں، یہ سوچ کا سفر ساراتیرے ہی حکم کا پابند ہے، اے نورِ بے کنارامیں کیا ہوں کہ تیری مدح میں کچھ کہہ سکوںبس تیری دہلیز پر سر جھکائے بیٹھا رہوںمیری ہستی کا ہر لمحہ تیری یاد میں گزرےمیری روح کو تیرے حضور میں سکون اترے
تجھ پر ہی بھروسہ ہے، تجھ سے ہی امید ہےتیری رحمتوں کی بارش، میری زندگی کی عید ہےاے مالکِ کل، تیری عظمت کو سلام ہےتیری ہی رضا میں، میری بخشش کا مقام ہے
تیری رحمت ہی کافی ہے، تیرا ہی ساتھ کافی ہےمیری بندگی کی ہر دعا، تیری ہی ذات پر باقی ہےتیری ہی ذات پر باقی ہےتیری ہی ذات پر باقی ہے
تیرے نام سے روشن
نور رحمت
Preview