شانِ کبریائی
عارف نورانی
Hamd
About
ایک روحانی حمد جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی روایتی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آواز کا اتار چڑھاؤ اور صوفیانہ انداز سننے والے کو ایک پرسکون اور مراقبہ جیسی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے نام سے روشن ہے ہر ایک ذرہ کائنات کا تیری ہی ذات ہے مہور ہر ایک سانس کا خلق کل ملک یہ دو جہان تیری عظمت کو سجدے کر یہ جہان عثمانوں کی وسط میں تیرا ہی اکس نظر آئے زمین کی ہر تب تیریت پر تیرا کرے رم برس جائے تو نے بخشا ہے نور بصیر تن انکھوں کو تو آئے بکھری ہوئی ان راہوں کو تیری قدرت کے شاہکار ہر صوبہ کھرے پڑے ہی نم تیرے در پر دست سوال یہ پھرے ہی تیری شانے کا برائی کا کوئی تیرے سواس دل کو کوئی تہکانہ نہیں اول تو ہی آخر تو ہی زہر تو ہی بطن تیری محبت سے روشن ہے یہ سارا دومن تیری عظمت کے آگے جکتی ہے ہر جب ان تیرے سوا کوئی معبود نہیں کوئی معبود نہیں پھولوں کی مرک میں تیرے ہی خوشبو کا بصیرہ ہے رات کی تاریخ میں بیرائی صوبی راہ اس مندر کی لہر ان تیری تسبیح پڑھتی اوہوں کی سربوشیاں تیرا ہی نام لیتی ہیں ہم گناہ بور سہی اگر تیری رحمت کے تلگ اور ان تیری عطا بے ساری سائمی ہم سب پر ارتکارین تیری شانے کا براہی کا کوئی تیرے سوا اس دل کو کوئی تحقانہ نہیں روبل تو ہی آخر تو ہی زہر تو ہی بطن تیری محبت سے روشن ہے یہ سارا دومن تیری عظمت کو آگے جکتی ہے ہر جب ان تیرے سوا کوئی معبود نہیں کوئی معبود نہیں ذات پاک تیری سب سے بلند و بلا تیری دم سے ہے یہ سارا اجالہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھنا اے رب کریم تیری ہی آدمی گزرے یہ زندگی کا ہر ایک نئی عظمت کو سلام تیری قدرت کو سلامت موسیقی
شانِ کبریائی
عارف نورانی
Preview