دھرتی کا جشن
ساگر اور سنگت
Pakistani Folk
About
یہ گیت روایتی ڈھول کی تھاپ اور رباب کی دلکش دھنوں کے ساتھ کسانوں کی محنت اور فصل کی کٹائی کے جشن کو بیان کرتا ہے۔ اس میں مائیکرو ٹونل آواز کے اتار چڑھاؤ اور نامیاتی پرکشن کی تہوں کا استعمال کیا گیا ہے جو دیہی پاکستان کی روح کو پیش کرتا ہے۔
Lyrics
سوکھے کھیتوں میں اب ہریالی آئی ہےدھرتی نے اپنی گود سجائی ہےمحنت کا پھل اب ہاتھوں میں آیا ہےخوشیوں نے پھر سے ڈیرہ جمایا ہے
پسینہ بہایا تھا جو مٹی کی پیاس بجھانے کوہم نے جتن کیے تھے فصلیں اگانے کوکبھی دھوپ کی شدت، کبھی ساون کی رم جھمموسموں کے ہر رنگ کو سہتے رہے ہماب بالیاں جھومتی ہیں ہوا کے اشاروں پرخدا کا شکر ہے لبوں پر، ستاروں پر
آج گیت خوشی کے گائیں گے ہمکھیتوں میں رنگ بکھرائیں گے ہمسونا اگا ہے مٹی کی اس راکھ سےرشتہ جڑا ہے دھرتی کے اس پاک سےفصل کٹی ہے، اب جشن منائیں گےخوشیوں کے دیپ ہر گھر جلائیں گے
ہاتھوں میں درانتی ہے، دل میں ہے اک آسخوشحال ہو ہر کسان، ہو ہر کوئی پاسبانٹیں گے ہم سب میں یہ اناج کا تحفہمحبت کا یہ موسم، یہ پیار کا لمحہبوڑھی آنکھوں میں چمک، بچوں میں مسکانمٹی کی خوشبو سے مہکتا ہے سارا جہان
آج گیت خوشی کے گائیں گے ہمکھیتوں میں رنگ بکھرائیں گے ہمسونا اگا ہے مٹی کی اس راکھ سےرشتہ جڑا ہے دھرتی کے اس پاک سےفصل کٹی ہے، اب جشن منائیں گےخوشیوں کے دیپ ہر گھر جلائیں گے
دعا ہے کہ ہر سال ایسی بہار آئےکبھی نہ کوئی بھوکا یہاں سو پائےرزق حلال کی یہ برکت ہے پیاریمحنت کے دم سے ہے یہ دنیا ہماری
ڈھول بجے گا، رقص کریں گے سبھیخوشی کا یہ عالم ہے، خوشی ہے یہ ابھیدھرتی ماں کا قرض ہم نے چکایا ہےخوشیوں کا طوفان گھر میں لایا ہے
سونا بکھرا ہے، سونا چمکتا ہےمیرا دیس اب ہنستا اور مہکتا ہےامن رہے، سکون رہے، پیار رہےہر دل میں بس خوشیوں کا ہی اظہار رہےفصل کٹی، اب جشن منائیں گےخوشیوں کے دیپ ہر گھر جلائیں گے
دھرتی کا جشن
ساگر اور سنگت
Preview