مٹی کی پکار
سرفراز خان سائیں
Pakistani Folk
About
یہ گیت روایتی ڈھول اور رباب کی گہری تھاپ کے ساتھ ایک سماجی پیغام پیش کرتا ہے۔ اس میں مائیکرو ٹونل صوتی اتار چڑھاؤ اور آرگینک پرکشن کی تہیں شامل ہیں جو ایک جذباتی اور پر اثر ماحول پیدا کرتی ہیں۔
Lyrics
توفیق اتھ رائے تھے یہ گول سادیر سادیر کی تلاش میں نکلے ہن مسافر انچھی دیواروں کے پیچھے چھپا ہے کیا خالی ہاتھوں میں ہے صرف دار شرقی گلیوں میں شور ہے بہت منگر دل کا سکون کھو گیا تو مٹی کی دیئے جلانے آئے تہہ پر اندیروں نے راست روک لیا او میرے مالک سن لے فریاد ہم بھولے تو کر لے یاد حق کی خاطر لے تب سیکھا حظلم کے آگے نا جکنا سیکھایا مٹی پکارے ایک ہی تپکاری اس کی راست کی راست پچھلنے ہوئے اور انہیں جمکتے محلوں کی جکا چوند مین ان سن خو گیا ہے اپنی سوچ میں بھوک سے پلکتے بچے ہندور کھڑے آور میروں کے دستخان ہن بہرے کب بدلے یہ کالی رات کی قید کب آئے گی وہ صبح جس کی ہے امید موسیقی او میرے مالک سن لے فریاد ہم بھولے تو کر لے یاد حق کی خاطر لے تب سیکھا حظلم کے آگے نا جکنا سیکھایا مٹی پکارے ایک ہی تپکاری اس کی راست کی راست کی راست کی خاطر لے تب سیکھا حظلم کے آگے نا جکنا سیکھایا مٹی پکارے ایک ہی تپکاری اس کی راست کی راست کی راست کی خاطر لے تب سیکھا حظلم کے آگے نا جکنا پچھلنے ہاری نہیں لفظوں کی بازی گرینین سب جہس بولنے والے اب کھا ہنٹھون پتھر کے دلوں میں کوئی درد نہیں یہ دنیا اب کسی کی ہمدرد نہیں جاگا ٹھوئے مٹی کے ورس توڑ دو یہ زنجیری اے بے بسوس کی شم اب خود چلانی ہوگی تقدیر اب خود سنوارنی ہوگی موسیقی پٹی کی خوشبو سچ کا نشان و سلامت میرا پیار جہان و سلامت میرا پیار جہان سچ رہ گا سچ رہ گا ہمیشہ موسیقی
مٹی کی پکار
سرفراز خان سائیں
Preview