پرکھوں کی امانت
سائیں تراب زادہ
Pakistani Folk
About
یہ گیت روایتی ڈھول اور رباب کی گہری دھنوں کے ساتھ پرکھوں کی یادوں کو تازہ کرتا ہے۔ اس میں مائیکرو ٹونل صوتی اتار چڑھاؤ اور نامیاتی پرکشن کی تہیں شامل ہیں جو ایک جذباتی اور روحانی ماحول پیدا کرتی ہیں۔
Lyrics
مٹی کی خوشبو پرکھوں کا ساہ روح کے اندر اکھرشت سمایا جو گزرے وقت نے نشانی چھوڑے ایسی آدمی ہم نے عمر بزاری دادا کی چھوگھٹ وہ پرانی دیواری گان میں چھپی ہی ہماری سب پکاری نکھوں کی لگی رومی وہی ناکش کنن ہے خون کی گرمی میں وہی پرانا چلن ہے تزبیح کے دانومی دہائیں بکھاری ہانسلوں کی محنت جو موت ہے پہ آبھاری یہ ورس ہے ہمارا یہ چھوٹی ہی پرانی ماری کہانی ہے ماری زبانی مجھے سے جھوٹے ہیں پٹی بنجائی وہ ساندری چال وہ بزرگوں کی باتی زرگ شامی اور روشن وہ حراتین جو کیا جلایا وہ بجنے نہ پائے ہماری سانسومی وہ مشلین لہر آئے ہر موڈ پہ ہم کو وہ آہد کہا دہین خوابوں میں آ کر وہ موت ہے بلا دہین یہ ورس ہے ہمارا یہ چھوٹی ہی پرانی ماری کہانی ہے ماری زبانی مجھے سے جھوٹے ہیں پٹی بنجائی ہم گیت گائیں گے وہ ساندری چال وہ بزرگوں کی باتی زرگ شامی اور روشن وہ حراتین جو کیا جلایا وہ بجنے نہ پائے ہماری سانسومی وہ مشلین لہر آئے ہر موڈ پہ ہم کو وہ آہد کہا دہین خوابوں میں آ کر وہ ہنس کر بلا دہین یہ ورس ہے ہمارا یہ چھوٹی ہی پرانی ماری کہانی ہے ماری زبانی مجھے سے جھوٹے ہیں پٹی بنجائی ہم گیت گائیں گے نو اندھا روشن ہم کرتے رہیں یہ زندہ ہی ہم تو یہ جہتے رنگنٹی کی خوشبو ہماری نشانی پر کھو کی تھی ہوئی یہ زندگانی یہ زندگانی یہ زندگانی یہ زندگانی یہ زندگانی یہ زندگانی یہ زندگانی یہ زندگانی یہ زندگانی یہ زندگانی یہ زندگانی
پرکھوں کی امانت
سائیں تراب زادہ
Preview