Skip to content
Duration2:58

پرانی داستانوں کا سفر

سافرِ خاک

Pakistani Folk

About

یہ گیت روایتی پاکستانی لوک موسیقی کا ایک شاہکار ہے جس میں ڈھول کی تھاپ اور رباب کی گونج کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس میں مائیکروٹونل آواز کے اتار چڑھاؤ اور آرگینک پرکشن لیئرنگ کے ذریعے ماضی کی یادوں کو زندہ کیا گیا ہے۔

Lyrics

پیاری یہ دیووں کے دریچے کھل گئے ہم مٹی کی خوشبو سے دل بل گئے ہنوے قصے وہی بطین پرانی سناوں منتجے اب یہ کیا ہونی کہیں دور دیس کے ورٹلی گلیاں جاں بستی تہیں وہ پرانی تلیاں کسی بودھے کی آنکھوں میں وہ منظر جو چپائے پیٹا ہے کوئی کہرام ہست مر پرانے کس جو سینوں میں دفنے لمحہ جو اب بھی میری رگوں میں مگن ہم وہ پرانے خوابوں کے میں سافر تیری آدھوں بھی بسا ہے کوئی گافری ہے دہرٹی دل کا ہے اب یہی ایک جہانی قصے یہ باتیں یہ سب سچائی ہامی یادوں کے بوجھے حجگائی وہ قصے ہی رکواراں جہاں کی تڑپوا عشقی آگ وہ دل کی دھڑکندی کے کنار و پیار کے وقت زمانے انہیں تولے پہ جس اراد ہوں پرانی روا وہ رسم و رواجہ اب بھی ہے دل نہیں اب بھی ہے لچ وہ پرانے خوابوں کے میں سافر تیری آدھوں بھی بسا ہے کوئی کہرام ہست مر پرانے وہ پرانے خوابوں کے میں سافر تیری آدھوں بھی بسا ہے کوئی گافری ہے دہرٹی دل کا ہے اب یہی ایک جہانی قصے یہ باتیں یہ سب سچائی ہامی آدھوں کی پوجہ ہے زلوی ہے زلزل وہ پرانے خوابوں کے اب ڈم سے گئے ہیں وقت کے کے پئی اب گھم سے گئے ہیں ہمگر یادیں زندہ ہمگر سے بھوکی ہی ماری دوستان کے اب بھی سبر اور بھی ہمس اب یہ کہانی یہ ہی خطائی ہامی آدھوں کی پوجہ ہے زلزل

پرانی داستانوں کا سفر

سافرِ خاک

Preview

پرانی داستانوں کا سفر by سافرِ خاک | EchoLoRA: Generate a Song with AI