यादें पुरानी
आर्यन और धुंध
इंडी-पॉप
About
यह गीत एक मधुर इंडी-पॉप रचना है जिसमें एकॉस्टिक गिटार की कोमल धुन और आधुनिक सिंथेसाइज़र का सुंदर मेल है। इसकी प्रोडक्शन शैली में एक अंतरंग 'बेडरूम-पॉप' अहसास है, जो बचपन की यादों और खोए हुए समय के प्रति एक गहरा लगाव पैदा करता है।
Lyrics
یہاں دلیا گلیاں وہ شامیں وہ باتیں پورانی ڈھونڈلی یادوں کی ایک انکہی کہانی سب کچھ وہی ہے بس ہم بدل گئے پورانے اس کول کی وہ دیواریں جہاں لکھی تھی ہم نے اپنی تقدیریں وہ کارزز کی کشتیوں بارش کا پانی آج بھی یاد ہے مجھے وہ ہرے نشانی برپنچپن کی وہ دھوپ وہ جھٹکی وہ جھام وہ کندھوندھو میں وہ اپنا اگام وقت کی لہروں میں سب خوسا گیا جو تھا پناہ وہ پراہ ہو گیا پر آج بھی دل کے کسی کونے میں وہ پل زندہ ہے یادیں پورانی جیسے کوئی پورانی تصویر بدلی نہیں ہے میں یہ تقدیر وہ ہسی وہ شور وہ بے فکی دن کیسے دینگے ہم اب ان یادوں کے بینے یادیں پورانی جیسے کوئی پورانی وہ سائیکل کے پہ ہی ہے وہ دوستوں کی ٹولی رنگوں سے بھری وہ اپنی ہولی چھپا کر رکھی ہے میں نے وہ یادیں ساری جیسے کوئی ان مولو دنیا سے لیا رہی ہے تو بس خلوں میں ہی مل پاتے ہیں ہم سب اپنی راہوں میں کھو جاتے ہیں یادیں پورانی جیسے کوئی پورانی تصویر بدلی نہیں ہے میں یہ تقدیر وہ ہسی وہ شور وہ بے فکی دن کیسے دینگے ہم اب ان یادوں کے بینے یادیں پورانی جیسے یادیں پورانی مرچائے فولوں میں خوشبو باقی ہے تیری باتوں کی آج بھی جست جو باقی ہے مانا کی سب کچھ بدل گیا ہے یہاں پر رو میں آج بھی وہ بچپن ہے چھپا یادیں پورانی جیسے کوئی پورانی تصویر بدلی نہیں ہے میں یہ تقدیر وہ ہسی وہ شور وہ بے فکی دن کیسے دینگے ہم اب ان یادوں کے بینے یادیں پورانی جیسے یادیں پورانی جیسے کوئی پورانی تصویر بدلی نہیں ہے میں یہ تقدیر وہ ہسی مرچائے فولوں میں خوشبو باقی ہے تیری باتوں کی سب کچھ بدل گیا ہے وہ شور وہ بے فکی دن کیسے دینگے ہم اب ان یادوں کے بینے یادیں پورانی جیسے یادیں پورانی جیسے کوئی پورانی تصویر بدلی نہیں ہے میں یہ تقدیر وہ ہسی وہ شور وہ بے فکی دن کیسے دینگے ہم اب ان یادوں کے بینے یادیں پورانی جی وہ گلیاں وہ شامیں وہ باتیں پورانی بس یادیں ہی ہیں اب اپنی نشانی سب کچھ وہی ہے بس ہم بدل گئے سب کچھ وہی ہے بس ہم بدل گئے
यादें पुरानी
आर्यन और धुंध
Preview