وصل کی پکار
درویشِ گمشدہ
صوفیانہ موسیقی
About
یہ کلام ایک گہرے روحانی سفر کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہارمونیم کا ڈرون اور تال پر تالیوں کی گونج ایک پرسرار کیفیت پیدا کرتی ہے۔ گلوکار کی طویل اور جذباتی سریں (melismatic vocal runs) وحدتِ الوجود کی تڑپ کو بیان کرتی ہیں، جو آہستہ آہستہ وجد کی کیفیت میں بدل جاتی ہیں۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں میںتیرے ہی نام کی صدا ہوں میںتیرے عشق میں گمشدہ ہوں میں
راستہ لاپتہ ہے، منزل کا پتا نہیںتیرے بن جینے کا کوئی بھی مزا نہیںدل کے ویرانے میں اک آگ سی لگی ہےتیری یادوں کے سوا اب کوئی دوا نہیںمیں ڈھونڈتا ہوں تجھے ہر اک ذرے میںپر تیرا چہرہ کہیں نظر آتا نہیں
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لےتیرے نام پہ ہی اب تو سب مانگ لےمیں تو پیاسا ہوں تیرے دیدار کامیری روح کو اپنے وصل سے ڈھانپ لے
دنیا کی محفلیں سب جھوٹی لگیں مجھےتیری ذات کے سوا سب خالی لگیں مجھےخودی کو مٹا کر میں تجھ میں سما جاؤںتیرے جلووں کی رم جھم میں کھو جاؤںاک پل کی دوری بھی اب سہنی نہیںتیرے قرب کے بغیر کچھ کہنی نہیں
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لےتیرے نام پہ ہی اب تو سب مانگ لےمیں تو پیاسا ہوں تیرے دیدار کامیری روح کو اپنے وصل سے ڈھانپ لے
میری سانسوں میں تو، میری سوچوں میں تومیری آنکھوں میں تو، میری نبضوں میں توتیرے ہی عشق کا نشہ ہے مجھ پراے مالکِ کل، اب تو خود کو دکھا دےمیری ہستی کو اپنے وجود میں ملا دے
تیرے در پہ پڑا ہوں، اب تو اٹھا لےاپنے بندے کو اب تو اپنا بنا لےمیں تیرا ہوں، میں تیرا ہوںصرف تیرا ہی ہوںصرف تیرا ہی ہوں
وصل کی پکار
درویشِ گمشدہ
Preview