Skip to content
Duration3:04

وصل کی پکار

درویشِ گمشدہ

صوفیانہ موسیقی

About

یہ کلام ایک گہرے روحانی سفر کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہارمونیم کا ڈرون اور تال پر تالیوں کی گونج ایک پرسرار کیفیت پیدا کرتی ہے۔ گلوکار کی طویل اور جذباتی سریں (melismatic vocal runs) وحدتِ الوجود کی تڑپ کو بیان کرتی ہیں، جو آہستہ آہستہ وجد کی کیفیت میں بدل جاتی ہیں۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں میںتیرے ہی نام کی صدا ہوں میںتیرے عشق میں گمشدہ ہوں میں

verse

راستہ لاپتہ ہے، منزل کا پتا نہیںتیرے بن جینے کا کوئی بھی مزا نہیںدل کے ویرانے میں اک آگ سی لگی ہےتیری یادوں کے سوا اب کوئی دوا نہیںمیں ڈھونڈتا ہوں تجھے ہر اک ذرے میںپر تیرا چہرہ کہیں نظر آتا نہیں

chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لےتیرے نام پہ ہی اب تو سب مانگ لےمیں تو پیاسا ہوں تیرے دیدار کامیری روح کو اپنے وصل سے ڈھانپ لے

verse

دنیا کی محفلیں سب جھوٹی لگیں مجھےتیری ذات کے سوا سب خالی لگیں مجھےخودی کو مٹا کر میں تجھ میں سما جاؤںتیرے جلووں کی رم جھم میں کھو جاؤںاک پل کی دوری بھی اب سہنی نہیںتیرے قرب کے بغیر کچھ کہنی نہیں

instrumental-interlude
chorus

مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ لےتیرے نام پہ ہی اب تو سب مانگ لےمیں تو پیاسا ہوں تیرے دیدار کامیری روح کو اپنے وصل سے ڈھانپ لے

climax

میری سانسوں میں تو، میری سوچوں میں تومیری آنکھوں میں تو، میری نبضوں میں توتیرے ہی عشق کا نشہ ہے مجھ پراے مالکِ کل، اب تو خود کو دکھا دےمیری ہستی کو اپنے وجود میں ملا دے

outro

تیرے در پہ پڑا ہوں، اب تو اٹھا لےاپنے بندے کو اب تو اپنا بنا لےمیں تیرا ہوں، میں تیرا ہوںصرف تیرا ہی ہوںصرف تیرا ہی ہوں

وصل کی پکار

درویشِ گمشدہ

Preview