Skip to content
Duration3:39

مسافرِ رازِ ہستی

صدیقِ قلندر

صوفیانہ موسیقی

About

یہ کلام ایک روحانی سفر کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہارمونیم کا گہرا ڈرون اور تبلے کی تھاپ پر تالیاں ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ گلوکار کی پر سوز آواز میں طویل ملائم سریں اور صوفیانہ اندازِ بیان روح کو سکون بخشنے کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی بلندی تک لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

میں کون ہوں، کہاں سے آیا، یہ رازِ ہستی کیا ہےتلاش جس کی تھی مجھ کو، وہ نورِ ازلی کیا ہے

verse

قدم قدم پہ اک نیا امتحان ہے میراخودی کے بت کو توڑنا ہی کام ہے میرامیں چل رہا ہوں اس راہ پر جہاں کوئی نشان نہیںیہ سفرِ ذات ہے، جہاں خود کا بھی گمان نہیںتپتی ریت پر چل کر، میں نے پیاس کو پایا ہےبند آنکھوں سے میں نے اُس کا جلوہ دکھایا ہے

chorus

میں تو مسافر ہوں اُس در کا، کوئی ٹھکانہ نہیںعشق کی اس وادی میں، خود کو مٹانا ہی فسانہ ہےیا رب، مجھے اپنی ذات سے ہی ملا دےمجھ میں چھپے اس راز کو، تو خود ہی جگا دے

verse

نہ کوئی قیدِ مکان ہے، نہ کوئی قیدِ زماںمیں ڈھونڈتا ہوں اُسے، جہاں ہے میرا دھیانکبھی زلفوں کے سائے میں، کبھی لبوں کی مسکان میںوہ چھپا ہے میری روح میں، میرے ہر اک گمان میںمیں نے چھوڑا ہے دنیا کو، اب تیری طلب ہی کافی ہےمیری سانسوں میں تیری یاد، اب یہی تو معافی ہے

instrumental-interlude
chorus

میں تو مسافر ہوں اُس در کا، کوئی ٹھکانہ نہیںعشق کی اس وادی میں، خود کو مٹانا ہی فسانہ ہےیا رب، مجھے اپنی ذات سے ہی ملا دےمجھ میں چھپے اس راز کو، تو خود ہی جگا دے

climax

میں مٹ گیا تو کیا ہوا، تیرا نام تو باقی ہےتیری راہ میں یہ سر میرا، اب تیری ہی تو حامی ہےہو جا فدا اس آگ میں، کہ راکھ میں ہی نور ہےمیں بھی نہیں، تو بھی نہیں، بس وہی ظہور ہےبس وہی ظہور ہے، وہی نور ہے!

outro

تلاش ختم ہوئی، اب تو ہی تو سامنے ہےمیرا وجود اب تیری ہی روشنی کے نام ہےمیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےصرف تو ہی تو ہے، صرف تو ہی تو ہے

مسافرِ رازِ ہستی

صدیقِ قلندر

Preview