Skip to content
Duration3:50

وحدتِ وجود

نورِ واحد

صوفیانہ موسیقی

About

یہ کلام صوفیانہ موسیقی کی ایک شاہکار تخلیق ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور تال پر تالیوں کی تھاپ ایک روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ گلوکار کے پُر اثر اور طویل میسمیٹک آواز کے اتار چڑھاؤ سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتے ہیں، جو وحدتِ وجود کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔

Lyrics

intro

میں کون ہوں، یہ کیا ہے، سب ایک ہی تو ہےذرے میں ہے جو جلوہ، وہ عرش پہ بھی تو ہے

verse

قطرہ جو سمندر سے جدا ہو تو فنا ہےدریا میں جو مل جائے تو خود ہی بقا ہےمٹی کے اس پیکر میں روح کا بسیراتجھ میں بھی وہی نور، مجھ میں بھی سویراکیسے کہوں میں تجھ سے، میں تجھ سے الگ ہوںمیں خود ہی ہوں وہ آئینہ، جس میں تیرا عکس ہے

chorus

سب ایک ہی ہے، سب ایک ہی ہےذاتِ حق کا جلوہ، ہر ایک ہی ہےنہ تو کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہ ہےجو کچھ بھی ہے، بس وہی ایک سلسلہ ہے

verse

پھولوں کی خوشبو میں، ہواؤں کے رقص میںتیرے ہی نشان ہیں، ہر ایک عکس میںمیں ڈھونڈتا تھا جس کو، وہ میرے اندر تھامیں تو مسافر تھا، وہ خود ہی رہبر تھاپردے ہٹائے تو دیکھا کہ میں تو تھا ہی نہیںوہ ایک ہی ہے موجود، باقی سب وہم ہے

instrumental-interlude
climax

میں فنا ہوا تو پایا، کہ تو ہی تو باقی ہےتیری ہی یہ ہستی، ہر شے میں حاکی ہےمیں بھی تو ہوں، تو بھی تو ہے، سب ایک ہی نور ہےیہ کائنات ساری، تیرے ہی حضور ہے

chorus

سب ایک ہی ہے، سب ایک ہی ہےذاتِ حق کا جلوہ، ہر ایک ہی ہےنہ تو کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہ ہےجو کچھ بھی ہے، بس وہی ایک سلسلہ ہے

outro

سب ایک ہی ہے، سب ایک ہی ہےمیں مٹ گیا ہوں، اب بس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہے

وحدتِ وجود

نورِ واحد

Preview

وحدتِ وجود by نورِ واحد | EchoLoRA: Generate a Song with AI