وحدتِ وجود
نورِ واحد
صوفیانہ موسیقی
About
یہ کلام صوفیانہ موسیقی کی ایک شاہکار تخلیق ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور تال پر تالیوں کی تھاپ ایک روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ گلوکار کے پُر اثر اور طویل میسمیٹک آواز کے اتار چڑھاؤ سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتے ہیں، جو وحدتِ وجود کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔
Lyrics
میں کون ہوں، یہ کیا ہے، سب ایک ہی تو ہےذرے میں ہے جو جلوہ، وہ عرش پہ بھی تو ہے
قطرہ جو سمندر سے جدا ہو تو فنا ہےدریا میں جو مل جائے تو خود ہی بقا ہےمٹی کے اس پیکر میں روح کا بسیراتجھ میں بھی وہی نور، مجھ میں بھی سویراکیسے کہوں میں تجھ سے، میں تجھ سے الگ ہوںمیں خود ہی ہوں وہ آئینہ، جس میں تیرا عکس ہے
سب ایک ہی ہے، سب ایک ہی ہےذاتِ حق کا جلوہ، ہر ایک ہی ہےنہ تو کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہ ہےجو کچھ بھی ہے، بس وہی ایک سلسلہ ہے
پھولوں کی خوشبو میں، ہواؤں کے رقص میںتیرے ہی نشان ہیں، ہر ایک عکس میںمیں ڈھونڈتا تھا جس کو، وہ میرے اندر تھامیں تو مسافر تھا، وہ خود ہی رہبر تھاپردے ہٹائے تو دیکھا کہ میں تو تھا ہی نہیںوہ ایک ہی ہے موجود، باقی سب وہم ہے
میں فنا ہوا تو پایا، کہ تو ہی تو باقی ہےتیری ہی یہ ہستی، ہر شے میں حاکی ہےمیں بھی تو ہوں، تو بھی تو ہے، سب ایک ہی نور ہےیہ کائنات ساری، تیرے ہی حضور ہے
سب ایک ہی ہے، سب ایک ہی ہےذاتِ حق کا جلوہ، ہر ایک ہی ہےنہ تو کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہ ہےجو کچھ بھی ہے، بس وہی ایک سلسلہ ہے
سب ایک ہی ہے، سب ایک ہی ہےمیں مٹ گیا ہوں، اب بس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہے
وحدتِ وجود
نورِ واحد
Preview