ذکرِ سرور
روحانی فیض
نعت
About
یہ نعت ایک روایتی روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی گہری دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں گلوکاری کا انداز انتہائی پر اثر اور پر سوز ہے، جس میں صوتی اتار چڑھاؤ اور طویل مدھر سروں کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ کلام کی عقیدت کو اجاگر کیا جا سکے۔
Lyrics
دل کی بستی میں چراغاں ہو گیاذکرِ سرور سے یہ عالم سجدہ ریزخواب آنکھوں میں ستارے بن گئےلب پہ جاری نامِ احمد کی دہیز
سایہ رحمت کا ہے سر پر میرےمیں فقیرِ درِ سلطانِ عربکیسی ٹھنڈک ہے میری سانسوں میںجیسے اترا ہو کوئی نورِ غضبراستے سارے مدینے کے طرفمیری روح اب تو یہیں بستی ہےہر قدم پر ہے خوشبو کا سفرمیری قسمت مجھ سے یہ کہتی ہے
یا نبی، آپ کی یادوں کا بسیرا دل میںآپ کی ذات سے روشن ہے میرا ہر اک پلکیسے بیاں کروں وہ شانِ کریمیآپ ہی تو ہیں میری زندگی کا حل
دشتِ تنہائی میں جب شام ہوئیمیں نے سوچا کہ کوئی تو ہوگاآپ کی الفت کی جو ڈھال بنےدردِ دل کا جو کوئی تو ہوگاآپ آئے تو زمانے بدلےتیرگی چھٹ گئی، روشنی آئیسارے رشتوں سے بڑا نام آپ کاآپ نے ہی تو یہ راہ دکھائی
یا نبی، آپ کی یادوں کا بسیرا دل میںآپ کی ذات سے روشن ہے میرا ہر اک پلکیسے بیاں کروں وہ شانِ کریمیآپ ہی تو ہیں میری زندگی کا حل
حاضری ہو نصیب اب تو مجھےآپ کی چوکھٹ پہ سر جھک جائےزندگی کا یہ سفر ختم ہو یوںآپ کا نام لیتے ہی دم نکل جائےبس آپ کا نام لیتے ہی دم نکل جائے
ذکرِ سرور
روحانی فیض
Preview