Skip to content
خاک اور خون
Duration3:28

خاک اور خون

روشنی کا اندھیرا

Pakistani Hip Hop

About

ایک طاقتور اور جذباتی ٹریک جو جدید ٹریپ بیٹس کے ساتھ روایتی ستار اور طبلے کے نمونوں کو ملاتا ہے۔ اس گانے میں شہری زندگی کی تلخ حقیقتوں اور سماجی ناانصافیوں کو ایک جارحانہ اور پر اثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

روشنیوں کے اس شہر میں، اندھیرے گہرے ہیںہماری سوچ کے پہرے، خود اپنے پہرے ہیںسڑکوں کی دھول میں، خوابوں کا کارواں ہےیہ میرا شہر، یہ میری زمین، یہ میرا جہاں ہے

verse

سیمنٹ کی دیواروں میں، سانسیں گھٹتی جاتی ہیںیہ اونچی عمارتیں، غریب کی غربت چھپاتی ہیںمیری جیب خالی ہے، مگر سر اٹھا کے چلتا ہوںمیں اس بھیڑ میں، اپنی الگ پہچان بنتا ہوںنہ کوئی سفارش، نہ کوئی میرا سہارا ہےبس میرا قلم ہے، اور یہ لفظ ہمارا ہےلوگ کہتے ہیں بدل جا، میں کہتا ہوں ہم بدلیں گےاندھیری راتوں کو، اپنے لہو سے ہم سنوریں گےیہاں سچ بولنا، جیسے آگ پر چلنا ہےمجھے اپنی ہی ذات کے، ہر ایک لمحے میں ڈھلنا ہے

chorus

یہ میرا خون، یہ میری مٹی، یہ میرا شور ہےمیری آواز میں، زمانے کا سارا زور ہےہم گرتے ہیں، سنبھلتے ہیں، ہم پھر سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیںاپنے ہی ہاتھوں سے، اپنی تقدیر لکھتے ہوتے ہیں

verse

وہ جو ایوانوں میں بیٹھے، محلوں کے مکین ہیںانہیں کیا خبر، ہم کتنے ہی غمگین ہیںبھوک سے بلکتے بچے، اور سڑکوں پہ زندگیان کے لیے کھیل ہے، ہماری یہ بندگیمیں گلیوں کا شہزادہ، کچرے سے اٹھا ہوںمیں سچ کی راہ پر، تنہا ہی چلا ہوںکوئی نہیں روکے گا، اب میرا یہ سفرمیں توڑ دوں گا، ہر ایک شک کا یہ گھرمیری زبان میں، اس دھرتی کی تپش ہےمیرے لہجے میں، ایک نئی سی کشش ہے

bridge

وقت کی دھارا، پلٹ کے دیکھے گی ہمیںہم وہ طوفان ہیں، جو روک نہ پائے گا انہیںخاموشیاں ٹوٹیں گی، جب میرا شور اٹھے گاہر ایک بندہ، اب خود سے خود سے لڑے گا

chorus

یہ میرا خون، یہ میری مٹی، یہ میرا شور ہےمیری آواز میں، زمانے کا سارا زور ہےہم گرتے ہیں، سنبھلتے ہیں، ہم پھر سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیںاپنے ہی ہاتھوں سے، اپنی تقدیر لکھتے ہوتے ہیں

outro

یہ میرا شہر، میری کہانیابھی تو شروعات ہے، یہ ہے میری نشانیاٹھو، خود کو پہچانواٹھو، اپنی ہمت کو جانوبس اب، اور نہیں جھکنابس اب، اور نہیں رکنا

خاک اور خون

روشنی کا اندھیرا

Preview

خاک اور خون by روشنی کا اندھیرا | EchoLoRA: Generate a Song with AI