Skip to content
♪
Duration4:45

سفرِ بندگی

عاشقِ ازلی

حمد

About

ایک روایتی حمد جس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلے کی ٹھہرائی ہوئی تھاپ شامل ہے۔ اس گانے میں آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے جو کہ ایک پرسکون اور روحانی ماحول پیدا کرتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے نام سے شروع ہو ہر ایک سانس کا سفرتیری ذات ہے ازل سے، تو ہی ہے سحرمیری روح کی پیاس، تیرا ہی تو ہے دھیانتجھ سے ہی قائم ہے یہ سارا جہاں

verse

ذرا دیکھ تو سہی، یہ کائنات کی وسعتیںتیری صناعی کی، یہ بے مثال صورتیںکہیں رنگ و بو کا عالم، کہیں روشنی کا راجتو نے ہی سجایا ہے، یہ زمیں کا تخت و تاجمیں تو بس ایک ذرہ، تیرے در کا ہوں فقیرمیری ہر ایک دعا میں، تیری ہی ہے تاثیر

refrain

اے میرے مالک، اے میرے ربِ کریمتیرے کرم سے ہی ہے، میرا یہ وجود نعیمتیرے حضور جھکتا ہے، میرا سرِ نیازتو ہی ہے مونس، تو ہی ہے میرا راز

verse

جب کبھی الجھ جائے، زندگی کا یہ تارتیرے ہی نام سے، ملتا ہے مجھے قرارمیری خطاؤں کو تو، اپنی رحمت میں چھپاتیری عطا ہے مجھ پر، یہ میرا ہے آسرانہ کوئی تیرا شریک، نہ کوئی تیرا مثلتیری ہی قدرت سے، ہر مشکل ہوتی ہے حل

refrain

اے میرے مالک، اے میرے ربِ کریمتیرے کرم سے ہی ہے، میرا یہ وجود نعیمتیرے حضور جھکتا ہے، میرا سرِ نیازتو ہی ہے مونس، تو ہی ہے میرا راز

verse

خاموشیوں میں بھی، تیرا ہی ذکر ہے بساتیرے ہی نور سے، ہر دل ہے روشن ذرایہ جو سانسیں چل رہی ہیں، تیرا ہی احسان ہےتیرے سوا اس جہاں میں، کہاں میری پہچان ہےمیں تو بھٹک گیا تھا، تیری راہوں سے دورتو نے ہی بخشا مجھے، ایمان کا وہ نور

refrain

اے میرے مالک، اے میرے ربِ کریمتیرے کرم سے ہی ہے، میرا یہ وجود نعیمتیرے حضور جھکتا ہے، میرا سرِ نیازتو ہی ہے مونس، تو ہی ہے میرا راز

outro

تیری حمد میں کٹ جائے، میری ہر ایک شامتیرے ہی نام پر ہو، میری زندگی تمامبس تیری رضا، بس تیری ہی پناہاے میرے رب، تو ہی ہے میری راہ

سفرِ بندگی

عاشقِ ازلی

Preview