مستیِ درِ جاناں
سوالیانِ درِ جاناں اور ساتھی
قوالی
About
ایک جذباتی اور روحانی قوالی جس میں ہارمونیم کا گہرا ساؤنڈ، طبلہ کی تیز تال اور اجتماعی تالیوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ کلام عشقِ حقیقی کی جستجو اور وجدانی کیفیت کو بیان کرتا ہے، جس میں کورس کی آوازیں اور مرکزی گلوکار کا مکالمہ ایک روحانی سماں باندھ دیتے ہیں۔
Lyrics
مستی میں ڈوبے ہوئے، ہوش و خرد سے بیگانےتیرے در کے سوالی، تیرے ہی نام کے دیوانےآگ لگی ہے سینے میں، تیری یاد کا دھواں اٹھادل کے ویرانے میں، عشق کا کارواں اٹھا
کبھی خود سے ملے، کبھی تجھ سے ملےہم تو دنیا کی بھیڑ میں، تنہا ہی چلےتیری آنکھوں کا عکس، میرے خوابوں میں بساتیری دہلیز پہ آ کر، ہر غم ہوا ہے خفامیں نے مانگا تجھے، ہر سجدے کی صدا میںتو ہی تو ہے چھپا، میری روح کی ہر ادا میں
محبوبِ حقیقی، تیرا جلوہ ہے ہر سوتیرے عشق میں ڈوب کر، میں ہو گیا ہوں بے تومحبوبِ حقیقی، تیرا جلوہ ہے ہر سوتیرے عشق میں ڈوب کر، میں ہو گیا ہوں بے تو
میں تو مٹی کا پتلا، تو نورِ ازلتیرے قدموں کی دھول، میرا کل اور اجلمیری ہستی کا کیا ہے، بس اک نام ہے تیراتیرے دم سے ہی روشن، میری راتوں کا سویرامیں تو گم ہو گیا، تیری ذات کے سمندر میںجیسے قطرہ مل جاتا ہے، دریا کے اندر میں
یا رب، یا رب، تیری پکار ہی زندگی ہےتیرے بن یہ سانس، محض اک بندگی ہےمیں کہاں تھا، میں کیا ہوں، یہ تو ہی جانےتیرے رازوں کے ہم، ہیں بس دیوانےحق! حق! حق!
جل اٹھا ہے دل، اب تو آ جامٹ گئی ہے دوری، اب تو آ جاتیرے نام کی مستی، رگ رگ میں دوڑےتیرے عشق کی زنجیر، اب کون توڑےوجد میں ہے عالم، جھوم رہی ہے کائناتتیرے نور سے روشن، ہر دن اور ہر رات
محبوبِ حقیقی، تیرا جلوہ ہے ہر سوتیرے عشق میں ڈوب کر، میں ہو گیا ہوں بے تومحبوبِ حقیقی، تیرا جلوہ ہے ہر سوتیرے عشق میں ڈوب کر، میں ہو گیا ہوں بے تو
خاموشی میں بھی تیری، صدائیں سنائی دیںتیرے سوا اب، کہاں مجھے بھلائی دیںبس تو ہی تو، بس تو ہی تومیں مٹ گیا، تیرے عشق میں ہو کر بے توبس تو ہی تو، بس تو ہی تو...
مستیِ درِ جاناں
سوالیانِ درِ جاناں اور ساتھی
Preview