نورِ درِ مصطفیٰ
سید آفتاب علی
Naat
About
یہ نعت ایک پرسکون ہارمونیم کی دھن اور طبلے کی دھیمی تھاپ پر مبنی ہے، جس میں گائیکی کا انداز انتہائی جذباتی اور پرکشش ہے۔ اس میں صوتی آرائش (melismatic vocal phrasing) کا استعمال کیا گیا ہے جو روحانی سکون اور عقیدت کے اظہار کو نمایاں کرتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کی فضاؤں میں سکونِ دل کا بسیرا ہےمیری بے چین روحوں پر تیرا ہی ایک پھیرا ہےتیری نسبت سے روشن ہے میری تاریک سی دنیاتیرے ذکرِ جمیل سے ہی تو میرا ہر سویرا ہے
وہ جو رحمت کا دریا ہے، وہ جو ہادیِ عالم ہےجس کی ذاتِ پاک سے ہر دل کا غم مدہم ہےصبا چلتی ہے جب ان کی گلی کی سمت سے اکثرتو لگتا ہے کہ جیسے کائنات میں خوشبو کا موسم ہےمیں خاکِ رہگزر ہوں اور وہ عرشِ معلیٰ پرمگر اس در کی چوکھٹ پر میرا سجدہ ہی مرہم ہے
یا مصطفیٰ، تیرے نام سے ہی تو زندگی ہےتیری محبت ہی تو میری بندگی ہےنظر میں بس تیرا ہی نقشِ پا ہےتیرے در کی غلامی ہی تو سرفرازی ہے
تیرے اخلاق کے چرچے زمین و آسماں میں ہیںتیری سیرت کے اجالے سبھی کے کارواں میں ہیںکوئی محروم نہ لوٹا کبھی تیرے در سے مولاتیرے کرم کے سائے تو زمانے کی امان میں ہیںمیں کیسے بھول جاؤں وہ کرم کی ایک نظر تیریمیری سوچیں، میرے جذبے، تیرے ہی دھیان میں ہیں
یا مصطفیٰ، تیرے نام سے ہی تو زندگی ہےتیری محبت ہی تو میری بندگی ہےنظر میں بس تیرا ہی نقشِ پا ہےتیرے در کی غلامی ہی تو سرفرازی ہے
تمہاری یاد کے آنسو، میری آنکھوں کا زیور ہیںتمہاری ذات کے قصے، میرے دل کا ہی جوہر ہیںنہ کوئی اور سایہ ہے، نہ کوئی اور ٹھکانہ ہےتیرے در کی گدائی میں، سبھی شاہی کے منظر ہیںخدا نے خود کیا ہے ذکر تیرا اپنی کتابوں میںتیرے اوصاف تو بس کائنات کا ہی محور ہیں
یا مصطفیٰ، تیرے نام سے ہی تو زندگی ہےتیری محبت ہی تو میری بندگی ہےنظر میں بس تیرا ہی نقشِ پا ہےتیرے در کی غلامی ہی تو سرفرازی ہے
کبھی تو خواب میں آئے، کبھی جلوہ دکھا جائےمرے سینے میں جو حسرت ہے، وہ تو مجھ کو جلا جائےمیں منتظر ہوں اس دن کا، جب در پہ حاضری ہو گیتیری رحمت کی موجوں میں، یہ میرا دل نہا جائےکوئی تو ایسی ساعت ہو، کوئی تو ایسا لمحہ ہوکہ تیری دید کا منظر، میری آنکھوں میں چھا جائے
یا مصطفیٰ، تیرے نام سے ہی تو زندگی ہےتیری محبت ہی تو میری بندگی ہےنظر میں بس تیرا ہی نقشِ پا ہےتیرے در کی غلامی ہی تو سرفرازی ہے
تیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، میں دنیا بھول جاتا ہوںتیرے ہی ذکر کو لے کر، میں ہر لمحہ سنور جاتا ہوںسلام اس ذاتِ اقدس پر، سلام اس نورِ وحدت پرمیں تیرے نام پر اپنی، ہر ایک سانس وار جاتا ہوںیا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ۔
نورِ درِ مصطفیٰ
سید آفتاب علی
Preview