Skip to content
Duration4:47

عشق کا قرض

شایانِ رُوحانی

Coke Studio Fusion

About

ایک روحانی اور جذباتی سفر جو روایتی طبلہ اور ستار کی گہرائی کو جدید الیکٹرانک دھنوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس گانے میں ایک پر اثر آواز اور صوفیانہ شاعری کا امتزاج ہے جو سامعین کو ایک پرسکون اور وجدانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

میری روح کی پیاس، میری ذات کا سفراے کائنات کے مالک، تو ہی ہے میرا گھرخاموشی میں اک شور ہے، تیری یاد کا بسیرااندھیری رات میں ڈھونڈوں، تیری رحمت کا سویرا

verse 1

راستہ بھٹک گئے، ہم خود کو پانے کی جستجو میںعمر گزر گئی، تیری دہلیز کی آرزو میںمٹی سے اٹھے تھے، مٹی میں مل جانا ہےپر تیری محبت کا، قرض چکانا ہے

verse 2

کبھی سوچوں تو لگتا ہے، تو دل کے پاس ہےکبھی دیکھوں تو لگتا ہے، تو اک احساس ہےلفظ تھم جاتے ہیں، جب تیرا نام لیتے ہیںہم تو بس تیری رضا میں، جینا سیکھ لیتے ہیں

pre-chorus

آنکھوں میں نمی ہے، پر دل میں اک سکون ہےتیری عطا کا ہر لمحہ، ہی تو جنون ہےتڑپ بھی ہے، اور قرار بھی ہےاس عشق میں، سارا اعتبار بھی ہے

chorus

اے میرے مولیٰ، تیری ہی پکار ہےاس دلِ بے چین کا، تو ہی تو قرار ہےتیرے نور سے روشن، یہ جہاں ساراتیرے سوا اب، کوئی نہیں ہمارا

verse 3

وقت کی لہروں میں، بہتے چلے جاتے ہیںتیرے ہی اشاروں پر، ہم جیتے اور مرتے ہیںکون جانے کہاں، منزل کا ٹھکانہ ہےہمیں تو بس، تیری ہی راہوں پر جانا ہے

instrumental-solo
bridge

دوریاں مٹ رہی ہیں، خود سے مل رہے ہیںتیری دی ہوئی خوشبو میں، ہم کھل رہے ہیںنہ کوئی شکوہ، نہ کوئی اب ملال ہےتیری دوستی ہی، میرا کمال ہے

pre-chorus

آنکھوں میں نمی ہے، پر دل میں اک سکون ہےتیری عطا کا ہر لمحہ، ہی تو جنون ہےتڑپ بھی ہے، اور قرار بھی ہےاس عشق میں، سارا اعتبار بھی ہے

chorus

اے میرے مولیٰ، تیری ہی پکار ہےاس دلِ بے چین کا، تو ہی تو قرار ہےتیرے نور سے روشن، یہ جہاں ساراتیرے سوا اب، کوئی نہیں ہمارا

bridge

بکھر کے بھی سنور گئے، تیری چاہت میںکھو کر خود کو، پا لیا تیری عبادت میںیہ سفر جاری رہے گا، آخری سانس تکتیرے ہی رنگ میں رنگے، ہم ہر بات تک

outro

تو ہی اول، تو ہی آخرتیری ہی ذات، میرا مقدربس تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...میرے دل کا قرار...میرے مولیٰ...

عشق کا قرض

شایانِ رُوحانی

Preview

عشق کا قرض by شایانِ رُوحانی | EchoLoRA: Generate a Song with AI