Skip to content
Duration2:55

تجھ میں فنا

سوزِ رضا

صوفیانہ قوالی

About

یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا مسلسل ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کا امتزاج ہے۔ اس میں جذباتی اور پرجوش صوفیانہ انداز (ecstatic vocal delivery) کو نمایاں کیا گیا ہے جو سامعین کو روحانی کیفیت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Lyrics

intro

تیری طلب میں کھویا میرا وجود ساراخود سے ملا تو پایا تجھ کو ہی بس پیارا

verse

میں تو اک قطرہ ہوں جو سمندر ڈھونڈتا ہےتیری گلی کی خاک میں اپنا گھر ڈھونڈتا ہےمیری سانسوں میں تیرا نام ہی تو بستا ہےمیرا ہر ایک لمحہ تجھ پہ ہی تو ہنستا ہے

vocal-improvisation

ہائے رے، ہائے رے، عشق تیراہائے رے، ہائے رے، سوز میرایا رب، یا رب، تیری پناہیا رب، یا رب، تیری رضا

chorus

تو ہی اول تو ہی آخر، تو ہی باطن تو ہی ظاہرتیرے عشق کی مستی میں، میں ہوا ہوں مسافرمٹ گیا میں خود میں، اب تو ہی تو باقی ہےتیری محبت ہی میرے جینے کی ساقی ہے

verse

یہ دنیا فانی ہے، سب خواب کا ایک منظرتو ہی حقیقت ہے، تو ہی ہے میرا رہبرمیں نے تو خود کو تیری دہلیز پہ چھوڑا ہےمیں نے تو دنیا کا ہر اک رشتہ ہی توڑا ہے

vocal-improvisation

مست ہوا، مست ہواتیری یاد میں پست ہواکچھ نہیں، کچھ نہیںتیرے بن کچھ نہیں

climax

میری ہستی بکھر جائے، تیرے نور میں مل جائےمیرا ہر ایک ذرہ، تیری یاد میں جل جائےنشہ ایسا چڑھا ہے کہ ہوش نہ باقی رہاتیری الفت کا دریا، اب تو ہی تو حامی رہا

outro

تجھ میں گم، تجھ میں فناتجھ میں گم، تجھ میں بقاتو ہی میرا، تو ہی میرابس تو ہی میرا، تو ہی میرا

تجھ میں فنا

سوزِ رضا

Preview

تجھ میں فنا by سوزِ رضا | EchoLoRA: Generate a Song with AI