تجھ میں فنا
سوزِ رضا
صوفیانہ قوالی
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا مسلسل ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کا امتزاج ہے۔ اس میں جذباتی اور پرجوش صوفیانہ انداز (ecstatic vocal delivery) کو نمایاں کیا گیا ہے جو سامعین کو روحانی کیفیت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Lyrics
تیری طلب میں کھویا میرا وجود ساراخود سے ملا تو پایا تجھ کو ہی بس پیارا
میں تو اک قطرہ ہوں جو سمندر ڈھونڈتا ہےتیری گلی کی خاک میں اپنا گھر ڈھونڈتا ہےمیری سانسوں میں تیرا نام ہی تو بستا ہےمیرا ہر ایک لمحہ تجھ پہ ہی تو ہنستا ہے
ہائے رے، ہائے رے، عشق تیراہائے رے، ہائے رے، سوز میرایا رب، یا رب، تیری پناہیا رب، یا رب، تیری رضا
تو ہی اول تو ہی آخر، تو ہی باطن تو ہی ظاہرتیرے عشق کی مستی میں، میں ہوا ہوں مسافرمٹ گیا میں خود میں، اب تو ہی تو باقی ہےتیری محبت ہی میرے جینے کی ساقی ہے
یہ دنیا فانی ہے، سب خواب کا ایک منظرتو ہی حقیقت ہے، تو ہی ہے میرا رہبرمیں نے تو خود کو تیری دہلیز پہ چھوڑا ہےمیں نے تو دنیا کا ہر اک رشتہ ہی توڑا ہے
مست ہوا، مست ہواتیری یاد میں پست ہواکچھ نہیں، کچھ نہیںتیرے بن کچھ نہیں
میری ہستی بکھر جائے، تیرے نور میں مل جائےمیرا ہر ایک ذرہ، تیری یاد میں جل جائےنشہ ایسا چڑھا ہے کہ ہوش نہ باقی رہاتیری الفت کا دریا، اب تو ہی تو حامی رہا
تجھ میں گم، تجھ میں فناتجھ میں گم، تجھ میں بقاتو ہی میرا، تو ہی میرابس تو ہی میرا، تو ہی میرا
تجھ میں فنا
سوزِ رضا
Preview