نور کی بوندیں
سید فیضان علی قادری
قوالی
About
یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کے ساتھ جذباتی آواز کا امتزاج ہے۔ اس میں کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ کے ذریعے ایک پرجوش اور وجدانی ماحول پیدا کیا گیا ہے جو صوفیانہ عشق کی عکاسی کرتا ہے۔
Lyrics
نور کی بوندیں، قلب میں اتریںخالی دامن، عشق سے بھریںتیری طلب میں، خود کو مٹایااپنے ہی اندر، تجھ کو پایا
راستہ تیرا، ڈھونڈتے ڈھونڈتےتھک گئے پاؤں، سوچتے سوچتےباہر کی دنیا، شور کا ڈیرہاندر تیرے، نور کا پھیرامیں تو نہیں ہوں، بس تو ہی تو ہےمیری رگوں میں، تیرا لہو ہے
مستی میں ڈوبا، عالم ساراتیرا ہی جلوہ، سب سے پیاراسجدے میں سر ہے، ہوش کہاں ہےتو ہی تو مالک، تو ہی جہاں ہے
کبھی جوش میں، کبھی خاموشیمٹ گئی میری، سب خود فراموشیتیرا نام لے کر، جینا سیکھاتیری راہوں میں، مرنا سیکھاہائے رے قربت، ہائے رے دوریتیرے بنا ہے، زندگی ادھوری
جل اٹھا دل، شمع کی مانندکھل گئے سارے، قید کے بندوجدان کی لہریں، روح میں آئیںآنسو بن کر، آنکھیں چھلکائیںمیں بھی تو ہوں، تیرے ہی رنگ میںگم ہو گیا ہوں، تیرے ہی سنگ میں
مستی میں ڈوبا، عالم ساراتیرا ہی جلوہ، سب سے پیاراسجدے میں سر ہے، ہوش کہاں ہےتو ہی تو مالک، تو ہی جہاں ہے
خاموشی میں، تیری پکاردل میں بسا ہے، تیرا ہی پیارسب کچھ تیرا، کچھ نہیں میرابس تیرا سایہ، بس تیرا پھیرا
نور کی بوندیں
سید فیضان علی قادری
Preview