سنگِ خارا
نقشِ فریادی
Pakistani Rock
About
ایک طاقتور پاکستانی راک گیت جس میں الیکٹرک گٹار کے بھاری ڈسٹورشن اور روایتی طبلہ کی تھاپ کا امتزاج ہے۔ یہ گانا سماجی بیداری اور تبدیلی کی تڑپ کو مشرقی راگوں اور جدید راک موسیقی کے ڈھانچے میں پیش کرتا ہے۔
Lyrics
دھند کے اس پار کوئی شہر نیا بستا ہےخواب آنکھوں میں لیے وقت بھی اب ہنستا ہےکون جانے کہ یہ رستے ہمیں لے جائیں کہاںجلتی بستی میں کوئی حرفِ دعا بستا ہے
سیمنٹ کے جنگل میں دم گھٹتا ہے میراہر چہرے پہ ماسک، یہ کیسا ہے بسیراہم نے تو سوچا تھا، گلشن میں بہار آئے گیپر کانٹوں نے ہی ہر سو ہے ڈیرہ ڈالا تیرادھوپ میں جلتے ہوئے پاؤں، یہ کیسا سفر ہےخاموش لبوں پر چھپا، ایک گہرا سا ڈر ہے
آسماں کی وسعتوں میں، ہم نے نام لکھے تھےاپنے ہی ہاتھوں سے خود، اپنے ہی دام لکھے تھےاب یہ زنجیریں توڑ کر، نکلنا ہے ہمیںجو زخم سینے میں تھے، وہ اب کھلنا ہے ہمیں
یہ زمین پکارتی ہے، اب جاگ اٹھو اے مسافران اندھیروں کے سینے میں، بن جاؤ خود ہی آذریہ وقت کا پہیہ ہے، جو اب تھمنے نہ پائے گاسچ کا سورج ہی اب، سب کو نظر آئے گا
بند کمروں میں گھٹی، یہ صدا سنائی دیتی ہےمایوسی کی دیواروں پر، لکیر دکھائی دیتی ہےکب تک ہم یوں ہی، سائے کے پیچھے بھاگیں گےاپنی ہی پہچان کو، کیا ہم ہی داغ لگائیں گے؟دھول اڑتی ہے، یادیں بکھرتی جاتی ہیںتاریک راتیں اب، صبح کی منتظر آتی ہیں
آسماں کی وسعتوں میں، ہم نے نام لکھے تھےاپنے ہی ہاتھوں سے خود، اپنے ہی دام لکھے تھےاب یہ زنجیریں توڑ کر، نکلنا ہے ہمیںجو زخم سینے میں تھے، وہ اب کھلنا ہے ہمیں
یہ زمین پکارتی ہے، اب جاگ اٹھو اے مسافران اندھیروں کے سینے میں، بن جاؤ خود ہی آذریہ وقت کا پہیہ ہے، جو اب تھمنے نہ پائے گاسچ کا سورج ہی اب، سب کو نظر آئے گا
شور مچتا ہے اندر، طوفان اٹھنے والا ہےہر ذرہ زمین کا، اب رنگ بدلنے والا ہےنہ ہم رکیں گے، نہ ہم تھکیں گے اب کبھیحق کی خاطر، ہم ہی تو جلنے والا ہے
یہ زمین پکارتی ہے، اب جاگ اٹھو اے مسافران اندھیروں کے سینے میں، بن جاؤ خود ہی آذریہ وقت کا پہیہ ہے، جو اب تھمنے نہ پائے گاسچ کا سورج ہی اب، سب کو نظر آئے گا
جاگ اٹھو، اے مسافرجاگ اٹھو، اے مسافرسچ کا سورج نکلے گااب روشنی پھیلے گیبس اب روشنی پھیلے گی
سنگِ خارا
نقشِ فریادی
Preview