Skip to content
Duration5:04

سحرِ آزادی

کاروانِ حیات

Pakistani Rock

About

ایک طاقتور پاکستانی راک ٹریک جو روایتی طبلہ کی تھاپ کو الیکٹرک گٹار کے بھاری ڈسٹورشن کے ساتھ ملاتا ہے۔ اس گانے میں مشرقی راگوں پر مبنی دھنیں اور سماجی و سیاسی بیداری پر مبنی شاعری شامل ہے جو ایک پرجوش اور انقلابی ماحول پیدا کرتی ہے۔

Lyrics

intro

خاموشیوں کے شور میں، گم ہے میرا جہاںلفظوں کی زنجیریں ہیں، ٹوٹا ہے آسماںکب تک چھپائیں گے ہم، سچ کا یہ کارواںجاگ اٹھا ہے اب تو، سویا ہوا دھواں

verse

گلیوں کی خاک چھانی، سر جھکا کے چلےاپنے ہی سایوں سے، ہم تو ڈرتے رہےکب تک یہ مصلحت، کب تک یہ خاموشیقید میں رہ کے بھی، ہم تو مرتے رہےاندھیری رات کا سینہ، چاک کر دیں گے ہماپنی ہی تقدیر کو، خود ہی سنوار دیں گے ہم

pre-chorus

تپتی ہوئی زمین پہ، پیروں کے نشاںآگے بڑھنے کا اب، کر لیا ہے گماںرکیں گے نہیں، جھکیں گے نہیں

chorus

یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ہیں یہاں، یہ خواب نہیںبدلیں گے ہم یہ دورِ ستماب ہار ماننا، ہماری بات نہیںیہ آگ ہے، یہ راکھ نہیں

verse

دیواروں پہ لکھی، اپنی کہانی پڑھٹوٹے ہوئے خوابوں کی، کرچیوں پہ چڑھکب تک یہ خوف کا، پہرہ رہے گا یہاںحق کی صدا بن کے، اب تو ذرا تو مڑہواؤں کا رخ، اب ہم موڑ دیں گےبندھنوں کے سارے، جال توڑ دیں گے

pre-chorus

تپتی ہوئی زمین پہ، پیروں کے نشاںآگے بڑھنے کا اب، کر لیا ہے گماںرکیں گے نہیں، جھکیں گے نہیں

chorus

یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ہیں یہاں، یہ خواب نہیںبدلیں گے ہم یہ دورِ ستماب ہار ماننا، ہماری بات نہیںیہ آگ ہے، یہ راکھ نہیں

bridge

اندھیروں میں چراغ، ہم خود جلائیں گےاپنی ہی سمت کا، راستہ بنائیں گےجو رکاوٹ بنی، اسے مٹا دیں گےنئی صبح کا، ہم ہی تو گیت گائیں گے

tabla-solo
guitar-solo
chorus

یہ آگ ہے، یہ راکھ نہیںہم ہیں یہاں، یہ خواب نہیںبدلیں گے ہم یہ دورِ ستماب ہار ماننا، ہماری بات نہیںیہ آگ ہے، یہ راکھ نہیں

outro

جاگ اٹھا ہے کارواںبدل رہا ہے اب جہاںہم ہی ہیں، ہم ہی ہیںاب نہ رکیں گے، ہم ہی ہیں

سحرِ آزادی

کاروانِ حیات

Preview

سحرِ آزادی by کاروانِ حیات | EchoLoRA: Generate a Song with AI