ہجرت کا ویران گھر
آفتاب تنہائی
غزل
About
ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گانے کا مکس ووکل سینٹرڈ ہے، جس میں شاعرانہ گہرائی اور جذباتی کیفیت کو اجاگر کرنے کے لیے کم سے کم سازوں کا استعمال کیا گیا ہے۔
Lyrics
تمہاری یاد کے موسم نے کیسی دھوپ پھیلائیمری تنہائی کے کمرے میں دستک کس نے دی بھائیمیں اپنی ذات کے صحرا میں بھٹکتا پھر رہا ہوں ابکوئی رستہ نہیں سوجھا مری آنکھوں میں ہے رسوائی
تیرے بن زندگی کا بوجھ اٹھانا سہل نہیں ہےیہ دل ہے یا کوئی ہجرت کا اک ویران سا گھر ہےتیرے بن زندگی کا بوجھ اٹھانا سہل نہیں ہے
پرانی ڈائری کے ورق پر اب بھی نام ہے تیراکبھی جو ہم نے سوچا تھا وہ سارا خواب ہی ٹھہرازمانے کی نگاہوں میں یہ اپنی عشق کی بازیمیں ہارا ہوں مگر خود سے ابھی تک جیت میں گہرا
ستارے ٹوٹ کر گرتے ہیں تو خاموشی سی چھاتی ہےتمہاری یاد کی لہریں مرا سکون چرا لیتی ہیںمیں لکھتا ہوں جو قصے ان میں تیرا ذکر ہوتا ہےیہ کاغذ کی لکیریں ہی مرا احوال بتاتی ہیں
محبت میں تو یہ ہوتا ہے دل کا ٹوٹنا لازمتمہارے پاس جانے کی کوئی صورت نہیں باقیمیں پتھر بن گیا ہوں یا کوئی مجسمہ غم کامری سانسوں میں اب بھی ہے تری خوشبو کی بے تابی
تیرے بن زندگی کا بوجھ اٹھانا سہل نہیں ہےیہ دل ہے یا کوئی ہجرت کا اک ویران سا گھر ہےتیرے بن زندگی کا بوجھ اٹھانا سہل نہیں ہے
چلو اب چھوڑ دیتے ہیں یہ قصہ مختصر اپناتمہیں پانے کی خواہش تھی مگر وہ خواب تھا اپنامیں بکھرا ہوں تو تجھ کو کیا خبر اے ہم نشیں میریکہ ٹوٹے آئینے میں عکس بھی ہوتا ہے دُھندلا سا
یہیں تک تھا سفر اپنا، یہیں تک ساتھ تھا اپناگئے موسم کے پیچھے اب نہ بھاگے گا یہ دل میراتیرے بن زندگی کا بوجھ اٹھانا سہل نہیں ہےتیرے بن زندگی کا بوجھ اٹھانا سہل نہیں ہے
ہجرت کا ویران گھر
آفتاب تنہائی
Preview