ذرہ قطرہ تیرا جلوہ
شمسِ تبریزِ ثانی
صوفی
About
یہ کلام ایک گہرا روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج ہے۔ گائیکی کا انداز انتہائی جذباتی اور وجدانی ہے، جو سامعین کو ایک مراقبہ جیسی کیفیت میں لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
Lyrics
میری روح کی پیاس، میرا حالِ زارتجھ سے ہی آغاز، تجھ سے ہی قرارمیں گم ہوں خود میں، پر تیرا ہی دھیان ہےیہ کیسی کشش، یہ کیسی پہچان ہے
دردِ دل کا قصہ، اب تو عام ہو گیاتیری یادوں کا جینا، میرا کام ہو گیامیں ڈھونڈتا رہا تجھے، ذروں میں، قطروں میںتیرا جلوہ ہر طرف، سرِ عام ہو گیامیری ہستی کا دیا، تیری لو سے جل اٹھےتیری الفت کا سفر، اب تمام ہو گیا
ہائے رے، ہائے رےیا رب، یا ربتیرے عشق میں، تیرے عشق میںمیں مٹ گیا، میں مٹ گیا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا کلامتیرے نام سے ہی زندہ، تیرے نام سے ہی آراممیں ذرہ ہوں، تو ہے سورج کا نورتیرے در کا گدا، تجھ سے ہے دور نہ کوئی اور
خودی کے بت کو توڑا، تو نے ہی سکھایا ہےتیرے بندے نے تجھ میں، خود کو پایا ہےنہ مسجد، نہ مندر، نہ کعبہ، نہ بت خانہبس تیری محبت کا، یہ سچا ٹھکانہ ہےمیں فنا ہو کے بھی، اب تک جی رہا ہوںیہ تیری ہی عنایت، یہ تیرا ہی فسانہ ہے
میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہے!ہر سانس میں تیری خوشبو، ہر سو تو ہی تو ہے!یہ کائنات کیا ہے، بس تیرا ایک اشارہڈوبتا ہوا یہ دل، تیرا ہی ہے سہاراوجد میں ہے عالم، اب تو کر دے کرمتیرے دیدار کا ہی، مجھے ہے غم!
یا اللہ، یا اللہتیرے رنگ میں رنگ گئی، یہ میری ذاتتیرے نام کی تسبیح، میری دن اور رات
خاموشی میں بھی تیرا ہی شور ہےتیرے سوا اب، مجھے کیا اور ہےخالی ہاتھ آیا تھا، خالی ہاتھ جاؤں گاتیرے عشق کا قرض، میں چکائے جاؤں گابس تو ہی، بس تو ہی...بس تو ہی...
ذرہ قطرہ تیرا جلوہ
شمسِ تبریزِ ثانی
Preview