ادھوری دعا
شہزاد نایاب
پاکستانی فلمی موسیقی
About
ایک جذباتی اور سنیماٹک ٹریک جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کو جدید سٹرنگ آرکسٹریشن کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس گانے میں ایک گہری اداسی اور رومانوی تڑپ کا امتزاج ہے جو سامعین کو ایک پرسکون اور پر اثر موسیقی کے سفر پر لے جاتا ہے۔
Lyrics
تنہائیوں کا یہ سفر ہے، اور کچھ بھی نہیںآنکھوں میں ٹھہرا ہوا سا، ایک خواب ہے، اور کچھ بھی نہیں
تیری یادوں کی دستک سے، دل دھڑکتا ہے ہر پلجیسے ساحل پہ لہریں، ڈھونڈتی ہوں کوئی محلمیں نے لکھے تھے جو خط، وہ جل کے راکھ ہو گئےتیرے بن جینے کے وعدے، بس اک مذاق ہو گئے
موسم کی کروٹیں، بدلتی ہیں اب رنگ میراتیرے سنگ جو گزرا تھا، وہی تو تھا ڈھنگ میرا
تو کہاں ہے، کہ تیری راہ تکتے تھک گئے ہیں ہمتیرے بن جینے کے، سبھی قصے لکھ گئے ہیں ہمیہ دوری اب، کسی نشتر سے کم نہیںتیرے بن جینے کے، سبھی قصے لکھ گئے ہیں ہم
شہر کی ان گلیوں میں، اب اجنبیت سی چھائی ہےتیرے ساتھ کی وہ خوشبو، اب کہاں ہم کو آئی ہےمیں نے دیکھا ہے خود کو، آئینے میں تنہا کھڑاجیسے کوئی پرانا، درد ہو سینے میں گڑا
کاش یہ وقت تھم جائے، اسی لمحے کی قید میںہم الجھ کر رہ گئے ہیں، تیری چاہت کی قید میںنہ تو ملتا ہے اب، نہ ہی ہم خود کو پاتے ہیںتیری یادوں کے بوجھ کو، ہم روز اٹھاتے ہیں
تو کہاں ہے، کہ تیری راہ تکتے تھک گئے ہیں ہمتیرے بن جینے کے، سبھی قصے لکھ گئے ہیں ہمیہ دوری اب، کسی نشتر سے کم نہیںتیرے بن جینے کے، سبھی قصے لکھ گئے ہیں ہم
بس اک یاد ہے، جو ساتھ چلتی ہےتیرے بن اب، ہر دعا ادھوری لگتی ہےادھوری سی دعا، ادھوری سی زندگیبس تیری کمی، بس تیری کمی...
ادھوری دعا
شہزاد نایاب
Preview