سکونِ قلب
صدائے رحمت
نعت
About
یہ نعت ایک روایتی اور روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی تال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس میں گائیکی کا انداز انتہائی جذباتی اور نغماتی ہے، جو سامعین کو عشقِ مصطفیٰ کی گہرائیوں میں لے جانے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے در کی فضاؤں میں سکونِ قلب پایا ہےمیری ویران آنکھوں نے تیرا ہی عکس پایا ہےزمانے کی تپش سے اب مجھے کوئی نہیں ڈرناتیری چوکھٹ پہ آ کر میں نے جینے کا سلیقہ پایا ہے
مدینے کی وہ گلیاں اور وہ خوشبو کا عالم ہےمیرے دل کی دھڑکن میں تیرا ہی اسمِ اعظم ہےمیں بھٹکا تھا اندھیروں میں، تو بن کے چاند نکلا ہےتیری رحمت کے سائے میں ہی میرا غم کم ہےتیرے قدموں کی آہٹ سے زمین بھی مسکراتی ہےتیری یادوں کی بارش روح کو میری نہلاتی ہےکوئی تو ہے جو سنتا ہے میری خاموش سی فریادتیری چوکھٹ کی جانب ہی میری قسمت بلاتی ہے
یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، تیرا کرم ہو جائےمیری روح کا ہر اک ذرہ تیرے عشق میں کھو جائےتیری سیرت کے اجالوں سے منور ہو میرا باطنمیری زندگی کا ہر لمحہ تیری یاد میں بس ہو جائے
وہ جن کے لمس سے پتھر بھی موتی بن کے چمکتے تھےوہ جن کے ذکر سے تاریک رستے بھی مہکتے تھےمیں ادنیٰ سا گداگر ہوں تیرے در کا اے آقاتیرے دربار کے خادم تو پلکوں پہ ہی پلتے تھےتجھے دیکھا نہیں لیکن تجھے ہر پل میں پایا ہےتیری تعلیم نے دنیا کو جینے کا ڈھنگ سکھایا ہےمیں قربان جاؤں تیری اس صفتِ رحمانی پرکہ تو نے دشمنوں کو بھی گلے سے خود لگایا ہے
یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، تیرا کرم ہو جائےمیری روح کا ہر اک ذرہ تیرے عشق میں کھو جائےتیری سیرت کے اجالوں سے منور ہو میرا باطنمیری زندگی کا ہر لمحہ تیری یاد میں بس ہو جائے
میری سانسوں کی لہروں میں تیرا نام ہی شامل ہےمیری کشتی کا لنگر اب تیرے ہی در کے ساحل ہےمیں جب بھی گر پڑا ہوں، تھام لی تم نے میری ہمتتیری نسبت ہی تو میرے لیے سب سے بڑا حاصل ہےبتاؤ کیا کمی باقی رہی میری عقیدت میںکہ اب تو خواب میں بھی تیری جھلک کا منتظر ہوں میںمجھے توفیق دے یا رب، میں تیرے نقشِ پا چلوںتیری الفت کے نور سے منور ہو یہ میرا گھر
یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، تیرا کرم ہو جائےمیری روح کا ہر اک ذرہ تیرے عشق میں کھو جائےتیری سیرت کے اجالوں سے منور ہو میرا باطنمیری زندگی کا ہر لمحہ تیری یاد میں بس ہو جائے
درودِ پاک پڑھتا ہوں، سکونِ دل پاتا ہوںتیرے ہی ذکر کے صدقے میں جنت دیکھ پاتا ہوںسلام اس پر، جو رحمت ہے تمام عالم کیاسی کے در پہ سر رکھ کر میں اب سو جاتا ہوںبس تیری یاد ہے، بس تیری یاد ہےمیری روح کی پیاس، بس تیری یاد ہے
سکونِ قلب
صدائے رحمت
Preview