ذات کا سجدہ
سحرِ عرفان
صوفی راک
About
ایک طاقتور صوفی راک ٹریک جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید الیکٹرک گٹار کی ڈسٹارشن کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ یہ گانا جذباتی اور بلند آواز میں گائی گئی شاعری کے ذریعے روحانی سفر کی عکاسی کرتا ہے۔
Lyrics
میں ہوں، تو ہے، اور یہ خالی راستہتیرے نام کا، ہر اک لمحہ واسطہ
مٹی کی قید سے، روح کو آزاد کراپنے ہی اندر، تو خود کو آباد کربجھتی ہوئی شمع، پھر سے جلانے آیا ہوںمیں اپنی ہستی کو، مٹانے آیا ہوںکیسا یہ سفر ہے، کیسا یہ نشہ ہےہر ذرہ بولے، تو ہی تو بسا ہے
آنکھیں بند کر کے، تجھ کو پکاراخودی کے حصار سے، میں نے کنارہ کیا
تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ٹھکانہتیرے عشق میں، اب تو سب لٹانا ہےمیں مٹ جاؤں، تیری ذات میں کھو جاؤںاے میرے مالک، میں بس تیرا ہو جاؤں
خوابوں کی دھند میں، چہرہ چھپا ہےمیری پیاس کا، تو ہی تو دریا ہےلفظوں کی قید سے، باہر نکل گیامیں تیرے رنگ میں، سارا ڈھل گیاکوئی نہ پوچھے، کہاں سے آیا ہوں میںبس ایک سجدہ، لٹانے آیا ہوں میں
تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ٹھکانہتیرے عشق میں، اب تو سب لٹانا ہےمیں مٹ جاؤں، تیری ذات میں کھو جاؤںاے میرے مالک، میں بس تیرا ہو جاؤں
نہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہ رہاتیرے وجود میں، دل میرا سما گیایہ جو شور ہے، میرے اندر بستا ہےتیرے ملن کا، یہ راستہ کہتا ہے
تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ٹھکانہتیرے عشق میں، اب تو سب لٹانا ہےمیں مٹ جاؤں، تیری ذات میں کھو جاؤںاے میرے مالک، میں بس تیرا ہو جاؤں
بس تیرا ہو جاؤں...بس تیرا ہو جاؤں...خودی مٹ گئی، تو ہی بچا ہےبس تو ہی بچا ہے...
ذات کا سجدہ
سحرِ عرفان
Preview