Skip to content
♪
Duration4:55

ذات کا سجدہ

سحرِ عرفان

صوفی راک

About

ایک طاقتور صوفی راک ٹریک جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید الیکٹرک گٹار کی ڈسٹارشن کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ یہ گانا جذباتی اور بلند آواز میں گائی گئی شاعری کے ذریعے روحانی سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

Lyrics

intro

میں ہوں، تو ہے، اور یہ خالی راستہتیرے نام کا، ہر اک لمحہ واسطہ

verse

مٹی کی قید سے، روح کو آزاد کراپنے ہی اندر، تو خود کو آباد کربجھتی ہوئی شمع، پھر سے جلانے آیا ہوںمیں اپنی ہستی کو، مٹانے آیا ہوںکیسا یہ سفر ہے، کیسا یہ نشہ ہےہر ذرہ بولے، تو ہی تو بسا ہے

pre-chorus

آنکھیں بند کر کے، تجھ کو پکاراخودی کے حصار سے، میں نے کنارہ کیا

chorus

تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ٹھکانہتیرے عشق میں، اب تو سب لٹانا ہےمیں مٹ جاؤں، تیری ذات میں کھو جاؤںاے میرے مالک، میں بس تیرا ہو جاؤں

verse

خوابوں کی دھند میں، چہرہ چھپا ہےمیری پیاس کا، تو ہی تو دریا ہےلفظوں کی قید سے، باہر نکل گیامیں تیرے رنگ میں، سارا ڈھل گیاکوئی نہ پوچھے، کہاں سے آیا ہوں میںبس ایک سجدہ، لٹانے آیا ہوں میں

chorus

تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ٹھکانہتیرے عشق میں، اب تو سب لٹانا ہےمیں مٹ جاؤں، تیری ذات میں کھو جاؤںاے میرے مالک، میں بس تیرا ہو جاؤں

bridge

نہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہ رہاتیرے وجود میں، دل میرا سما گیایہ جو شور ہے، میرے اندر بستا ہےتیرے ملن کا، یہ راستہ کہتا ہے

instrumental-solo
chorus

تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ٹھکانہتیرے عشق میں، اب تو سب لٹانا ہےمیں مٹ جاؤں، تیری ذات میں کھو جاؤںاے میرے مالک، میں بس تیرا ہو جاؤں

outro

بس تیرا ہو جاؤں...بس تیرا ہو جاؤں...خودی مٹ گئی، تو ہی بچا ہےبس تو ہی بچا ہے...

ذات کا سجدہ

سحرِ عرفان

Preview