Skip to content
آہٹیں
Duration3:05

آہٹیں

حسرت جاوید

غزل

About

ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کے نپے تلے تال کا امتزاج ہے۔ آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے تاکہ اشعار کی گہرائی اور جذباتی کیفیت سامعین تک پوری طرح پہنچ سکے۔

Lyrics

intro

تیرے آنے کی آہٹیں ہیں کہیںدل میں بکھری ہوئی یہ ساعتیں ہیں کہیں

verse

وہ جو اک خواب تھا، وہ بکھرنے لگامیری آنکھوں میں اب، عکس ڈرنے لگاکون جانے کہ کیا، ہم نے پایا یہاںخالی ہاتھوں میں بس، اب تو حسرتیں ہیں کہیں

refrain

تیرے آنے کی آہٹیں ہیں کہیںدل میں بکھری ہوئی یہ ساعتیں ہیں کہیں

instrumental-break
verse

کبھی سوچا نہ تھا، یوں بھی ہونا تھا ابتیرے رستے میں ہی، خود کو کھونا تھا اببات دل کی کہوں، یا خاموش رہوںمیری سانسوں میں اب، تیری شدتیں ہیں کہیں

refrain

تیرے آنے کی آہٹیں ہیں کہیںدل میں بکھری ہوئی یہ ساعتیں ہیں کہیں

outro

خالی رستے ہیں اور، یاد کا سلسلہتیرے جانے کے بعد، سب یہ وحشتیں ہیں کہیںتیرے آنے کی آہٹیں ہیں کہیں

آہٹیں

حسرت جاوید

Preview