آہٹیں
حسرت جاوید
غزل
About
ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کے نپے تلے تال کا امتزاج ہے۔ آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے تاکہ اشعار کی گہرائی اور جذباتی کیفیت سامعین تک پوری طرح پہنچ سکے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹیں ہیں کہیںدل میں بکھری ہوئی یہ ساعتیں ہیں کہیں
وہ جو اک خواب تھا، وہ بکھرنے لگامیری آنکھوں میں اب، عکس ڈرنے لگاکون جانے کہ کیا، ہم نے پایا یہاںخالی ہاتھوں میں بس، اب تو حسرتیں ہیں کہیں
تیرے آنے کی آہٹیں ہیں کہیںدل میں بکھری ہوئی یہ ساعتیں ہیں کہیں
کبھی سوچا نہ تھا، یوں بھی ہونا تھا ابتیرے رستے میں ہی، خود کو کھونا تھا اببات دل کی کہوں، یا خاموش رہوںمیری سانسوں میں اب، تیری شدتیں ہیں کہیں
تیرے آنے کی آہٹیں ہیں کہیںدل میں بکھری ہوئی یہ ساعتیں ہیں کہیں
خالی رستے ہیں اور، یاد کا سلسلہتیرے جانے کے بعد، سب یہ وحشتیں ہیں کہیںتیرے آنے کی آہٹیں ہیں کہیں
آہٹیں
حسرت جاوید
Preview