Skip to content
♪
Duration5:20

عشق کی آگ

عارفِ آتش

صوفی راک

About

یہ گانا روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلہ کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ الیکٹرک گٹار کی گونج شامل ہے۔ گانے میں جذباتی اور بلند آواز میں صوفیانہ شاعری کا اظہار کیا گیا ہے جو سامعین کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہمتیرے نام پہ خود سے ہی نکل گئے ہم

verse 1

در بدر پھرتے تھے اپنی ہی تلاش میںاک عجیب سی خلش تھی دل کی ہر پیاس میںپھر اک نظر جو پڑی تیرے جلووں پہ اے دوستسب کچھ گنوا بیٹھے ہم اپنی ہی حواس میںآنکھوں سے جاری ہے اب اشکوں کا دریاخالی ہے دامن مگر بھر گئے ہم

pre-chorus

مٹ گئے سارے نشاں، تیرا پتہ مل گیاذرہ ذرہ کائنات کا، اب تو ہی تو ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا کلامتیرے عشق میں ڈوب کر ہی پایا ہے آراممیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی نام

verse 2

کون سمجھے گا بھلا یہ دردِ دل کا حالہم تو قیدی ہو گئے تیرے عشق کے جالسجدوں میں گزرتی ہے اب ہر ایک راتتیرے قرب کی تڑپ میں، کھویا ہے یہ جلالخود کو مٹا کر ہی پایا ہے تجھ کواب تو ہم خود ہی، خود سے ہی بدل گئے ہم

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا کلامتیرے عشق میں ڈوب کر ہی پایا ہے آراممیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی نام

instrumental-solo
bridge

کوئی پوچھے تو کہہ دینا، ہم دیوانے ہیںتیرے در کے بھکاری، تیرے پروانے ہیںنہ کوئی منزل باقی، نہ کوئی راستہہم تو تیرے ہی قدموں کے ٹھکانے ہیںمٹ گئی انا، جل گئی ہستیتیری چاہت میں مکمل سنور گئے ہم

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا کلامتیرے عشق میں ڈوب کر ہی پایا ہے آراممیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی نام

outro

صرف تو ہی تو ہے...میرے اندر بھی تو، باہر بھی تو...تو ہی تو ہے...میں تو بس اک سایہ ہوں، تو ہی حقیقتتو ہی تو ہے...تو ہی تو ہے...

عشق کی آگ

عارفِ آتش

Preview