عشق کی آگ
عارفِ آتش
صوفی راک
About
یہ گانا روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلہ کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ الیکٹرک گٹار کی گونج شامل ہے۔ گانے میں جذباتی اور بلند آواز میں صوفیانہ شاعری کا اظہار کیا گیا ہے جو سامعین کو ایک روحانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہمتیرے نام پہ خود سے ہی نکل گئے ہم
در بدر پھرتے تھے اپنی ہی تلاش میںاک عجیب سی خلش تھی دل کی ہر پیاس میںپھر اک نظر جو پڑی تیرے جلووں پہ اے دوستسب کچھ گنوا بیٹھے ہم اپنی ہی حواس میںآنکھوں سے جاری ہے اب اشکوں کا دریاخالی ہے دامن مگر بھر گئے ہم
مٹ گئے سارے نشاں، تیرا پتہ مل گیاذرہ ذرہ کائنات کا، اب تو ہی تو ہے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا کلامتیرے عشق میں ڈوب کر ہی پایا ہے آراممیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی نام
کون سمجھے گا بھلا یہ دردِ دل کا حالہم تو قیدی ہو گئے تیرے عشق کے جالسجدوں میں گزرتی ہے اب ہر ایک راتتیرے قرب کی تڑپ میں، کھویا ہے یہ جلالخود کو مٹا کر ہی پایا ہے تجھ کواب تو ہم خود ہی، خود سے ہی بدل گئے ہم
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا کلامتیرے عشق میں ڈوب کر ہی پایا ہے آراممیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی نام
کوئی پوچھے تو کہہ دینا، ہم دیوانے ہیںتیرے در کے بھکاری، تیرے پروانے ہیںنہ کوئی منزل باقی، نہ کوئی راستہہم تو تیرے ہی قدموں کے ٹھکانے ہیںمٹ گئی انا، جل گئی ہستیتیری چاہت میں مکمل سنور گئے ہم
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا کلامتیرے عشق میں ڈوب کر ہی پایا ہے آراممیں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی نام
صرف تو ہی تو ہے...میرے اندر بھی تو، باہر بھی تو...تو ہی تو ہے...میں تو بس اک سایہ ہوں، تو ہی حقیقتتو ہی تو ہے...تو ہی تو ہے...
عشق کی آگ
عارفِ آتش
Preview