ہجر کا مسافر
عارف ہجر
غزل
About
ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گانے کا مکس ووکل سینٹرڈ ہے، جس میں شاعرانہ گہرائی اور جذباتی ادائیگی کو نمایاں کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے ہجر کی شدت سے اب تک نہیں نکلامیں وہ مسافر ہوں جو اپنی ہی راہ سے نہیں نکلادیواریں اٹھ گئیں درمیان میں کچھ اس طرح سےمیری صدا کا کوئی بھی سایہ نہیں نکلا
کیسی عجیب آگ ہے یہ جو بجھتی ہی نہیںدل کی بستی سے کوئی بھی راستہ نہیں نکلامیں ڈھونڈتا رہا خود کو ہی اپنی آنکھوں میںمگر کہیں سے بھی میرا کوئی پتہ نہیں نکلا
وہ جو وعدہ تھا وہ تو ایک سراب ٹھہرااس کے سوا میرے ہاتھ میں کچھ نہیں نکلاوہ پلٹ کر دیکھنے کی ضد بھی کیا کرتےجب ان کی محفل سے میرا تذکرہ ہی نہیں نکلا
کیسی عجیب آگ ہے یہ جو بجھتی ہی نہیںدل کی بستی سے کوئی بھی راستہ نہیں نکلامیں ڈھونڈتا رہا خود کو ہی اپنی آنکھوں میںمگر کہیں سے بھی میرا کوئی پتہ نہیں نکلا
خاموشیوں کا بوجھ ہے کہ کم نہیں ہوتااک خواب تھا جو آنکھ سے بکھرا نہیں نکلابس ایک آخری سانس کی دوری ہے اب تواس سے زیادہ تو کبھی کوئی فاصلہ نہیں نکلا
ہجر کا مسافر
عارف ہجر
Preview