زنجیروں کا زوال
صدائے بیداری
پاکستانی راک
About
ایک طاقتور فیوژن ٹریک جو روایتی طبلے کی تھاپ کو بھاری الیکٹرک گٹار ڈسٹورشن کے ساتھ ملاتا ہے۔ یہ گانا سماجی بیداری اور خود شناسی کے موضوعات کو ایک پرجوش اور آواز پر مبنی راک انداز میں پیش کرتا ہے۔
Lyrics
گھٹن کا یہ سماں، یہ شہرِ بے زباںسیاہی اوڑھ کر، سویا ہے آسماں
بند گلیوں میں، خوابوں کا جنازہ ہےکون سنے گا اب، جو دل کا تازہ ہےدیواروں پہ لکھی، اپنی ہی داستانیں ہیںہم تو بس اپنی، مٹی کے دیوانے ہیں
آنکھیں کھول کے دیکھ، یہ تماشا کیسا ہےسچ بولنے پہ، آخر یہ پہرہ کیسا ہے
توڑ دے زنجیریں، اب وقت کا یہ بندھنجگ سے نہیں ڈرنا، خود ہی بن اپنا درپنلاوا بن کے ابل، اب خاموشی توڑ دےاس جھوٹی دنیا سے، اپنا ناطہ چھوڑ دے
راکھ میں دبی، چنگاری ابھی باقی ہےمیری رگوں میں، اک طوفان ابھی باقی ہےتلاش کر خود کو، اس بھیڑ کے ہجوم میںکھو نہ جانا کہیں، اس اندھے سے روم میں
آنکھیں کھول کے دیکھ، یہ تماشا کیسا ہےسچ بولنے پہ، آخر یہ پہرہ کیسا ہے
توڑ دے زنجیریں، اب وقت کا یہ بندھنجگ سے نہیں ڈرنا، خود ہی بن اپنا درپنلاوا بن کے ابل، اب خاموشی توڑ دےاس جھوٹی دنیا سے، اپنا ناطہ چھوڑ دے
اندھیروں کا یہ راج، کب تک چلے گا؟موم کا یہ بدن، کب تک جلے گا؟اٹھ کھڑا ہو اب، کہ صبح ہونے والی ہےتیرے قدموں میں، نئی راہ آنے والی ہے
توڑ دے زنجیریں، اب وقت کا یہ بندھنجگ سے نہیں ڈرنا، خود ہی بن اپنا درپنلاوا بن کے ابل، اب خاموشی توڑ دےاس جھوٹی دنیا سے، اپنا ناطہ چھوڑ دے
خاموشی توڑ دے...خود کو تو موڑ دے...نئی صبح، تیرا انتظار ہےاٹھ کھڑا ہو، یہی وقتِ اظہار ہے
زنجیروں کا زوال
صدائے بیداری
Preview