Skip to content
♪
Duration4:38

زنجیروں کا زوال

صدائے بیداری

پاکستانی راک

About

ایک طاقتور فیوژن ٹریک جو روایتی طبلے کی تھاپ کو بھاری الیکٹرک گٹار ڈسٹورشن کے ساتھ ملاتا ہے۔ یہ گانا سماجی بیداری اور خود شناسی کے موضوعات کو ایک پرجوش اور آواز پر مبنی راک انداز میں پیش کرتا ہے۔

Lyrics

intro

گھٹن کا یہ سماں، یہ شہرِ بے زباںسیاہی اوڑھ کر، سویا ہے آسماں

verse

بند گلیوں میں، خوابوں کا جنازہ ہےکون سنے گا اب، جو دل کا تازہ ہےدیواروں پہ لکھی، اپنی ہی داستانیں ہیںہم تو بس اپنی، مٹی کے دیوانے ہیں

pre-chorus

آنکھیں کھول کے دیکھ، یہ تماشا کیسا ہےسچ بولنے پہ، آخر یہ پہرہ کیسا ہے

chorus

توڑ دے زنجیریں، اب وقت کا یہ بندھنجگ سے نہیں ڈرنا، خود ہی بن اپنا درپنلاوا بن کے ابل، اب خاموشی توڑ دےاس جھوٹی دنیا سے، اپنا ناطہ چھوڑ دے

verse

راکھ میں دبی، چنگاری ابھی باقی ہےمیری رگوں میں، اک طوفان ابھی باقی ہےتلاش کر خود کو، اس بھیڑ کے ہجوم میںکھو نہ جانا کہیں، اس اندھے سے روم میں

pre-chorus

آنکھیں کھول کے دیکھ، یہ تماشا کیسا ہےسچ بولنے پہ، آخر یہ پہرہ کیسا ہے

chorus

توڑ دے زنجیریں، اب وقت کا یہ بندھنجگ سے نہیں ڈرنا، خود ہی بن اپنا درپنلاوا بن کے ابل، اب خاموشی توڑ دےاس جھوٹی دنیا سے، اپنا ناطہ چھوڑ دے

bridge

اندھیروں کا یہ راج، کب تک چلے گا؟موم کا یہ بدن، کب تک جلے گا؟اٹھ کھڑا ہو اب، کہ صبح ہونے والی ہےتیرے قدموں میں، نئی راہ آنے والی ہے

tabla-solo
guitar-solo
chorus

توڑ دے زنجیریں، اب وقت کا یہ بندھنجگ سے نہیں ڈرنا، خود ہی بن اپنا درپنلاوا بن کے ابل، اب خاموشی توڑ دےاس جھوٹی دنیا سے، اپنا ناطہ چھوڑ دے

outro

خاموشی توڑ دے...خود کو تو موڑ دے...نئی صبح، تیرا انتظار ہےاٹھ کھڑا ہو، یہی وقتِ اظہار ہے

زنجیروں کا زوال

صدائے بیداری

Preview