Skip to content
وصل کا موسم
Duration4:05

وصل کا موسم

قلبِ نور

قوالی فیوژن

About

یہ ٹریک روایتی قوالی کی روح اور جدید الیکٹرانک دھنوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اس میں ہارمونیم کی گونج، طبلے کی تھاپ اور پرجوش تالیوں کے ساتھ جدید سنتھسائزر اور گٹار کا استعمال کیا گیا ہے جو ایک روحانی اور جذباتی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

میں ہوں، اور وہ ذات ہے میریخودی مٹ گئی، اب وہ ہی وہ ہے میریاک آگ سی لگی ہے اندر کے ویرانے میںوہ آ گیا ہے، اب کیا رکھا ہے زمانے میں

verse

تلاش میں اس کی، میں نے خود کو کھو دیاوہ ملا تو، میں کہاں تھا، میں کہاں ہو گیاراستے سب بند تھے، پر وہ دروازہ کھول گیاخاموشی کے شور میں، وہ میرا نام بول گیایہ بوجھ کیسا ہے، یہ ہلکا پن کہاں سے آیامیں نے تو خود کو، اس کے سپرد کر کے پایا

chorus

وہ نور ہے، وہ روشنی، وہ میری ہر پکار ہےوہ عشق ہے، وہ بندگی، وہ میرا پروردگار ہےمٹ گئی دوری، اب وصل کا موسم آیاجس نے بھی دیکھا، وہ خود کو ہی بھول آیا

vocal improvisation

ہو... علی، علی...ہائے رے، وہ پیار، وہ قراردل کا سکون، وہ میرا یارآیا، وہ آیا، دل میں سما گیاسب کچھ لٹا کے، سب کچھ پا گیا

verse

دیواریں گر گئیں، جو میرے اور اس کے درمیان تھیںاب تو صرف وہ سانسیں ہیں، جو اس کی امانت تھیںنہ کوئی فرق باقی، نہ کوئی اونچ نیچ رہیمحبت کی آگ میں، ہر ایک سوچ جل گئیمیں تھا تو بھٹکتا تھا، اب میں نہیں تو منزل ہےیہ کیسا کرم ہے، یہ کیسا حاصل ہے

chorus

وہ نور ہے، وہ روشنی، وہ میری ہر پکار ہےوہ عشق ہے، وہ بندگی، وہ میرا پروردگار ہےمٹ گئی دوری، اب وصل کا موسم آیاجس نے بھی دیکھا، وہ خود کو ہی بھول آیا

drop

سب ختم ہوا، سب شروع ہواوہ ہی تو تھا، وہ ہی تو ہےجو دل میں بسا، وہ ہی تو ہےسب ختم ہوا، سب شروع ہوا

vocal improvisation

یا اللہ، یا نبی، یا عشقتیری یاد میں، یہ دنیا فانی ہےیہ تو بس، ایک کہانی ہےتیرا دیدار، میرا آخری ٹھکانہ ہے

outro

خاموش ہوں اب میں، کوئی الفاظ نہیںاس کے سوا، کوئی بھی خاص نہیںوہ ہی ہے، وہ ہی ہےبس وہ ہی ہے، اب کچھ نہیںبس وہ ہی ہے...

وصل کا موسم

قلبِ نور

Preview

وصل کا موسم by قلبِ نور | EchoLoRA: Generate a Song with AI