وصل کا موسم
قلبِ نور
قوالی فیوژن
About
یہ ٹریک روایتی قوالی کی روح اور جدید الیکٹرانک دھنوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اس میں ہارمونیم کی گونج، طبلے کی تھاپ اور پرجوش تالیوں کے ساتھ جدید سنتھسائزر اور گٹار کا استعمال کیا گیا ہے جو ایک روحانی اور جذباتی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
میں ہوں، اور وہ ذات ہے میریخودی مٹ گئی، اب وہ ہی وہ ہے میریاک آگ سی لگی ہے اندر کے ویرانے میںوہ آ گیا ہے، اب کیا رکھا ہے زمانے میں
تلاش میں اس کی، میں نے خود کو کھو دیاوہ ملا تو، میں کہاں تھا، میں کہاں ہو گیاراستے سب بند تھے، پر وہ دروازہ کھول گیاخاموشی کے شور میں، وہ میرا نام بول گیایہ بوجھ کیسا ہے، یہ ہلکا پن کہاں سے آیامیں نے تو خود کو، اس کے سپرد کر کے پایا
وہ نور ہے، وہ روشنی، وہ میری ہر پکار ہےوہ عشق ہے، وہ بندگی، وہ میرا پروردگار ہےمٹ گئی دوری، اب وصل کا موسم آیاجس نے بھی دیکھا، وہ خود کو ہی بھول آیا
ہو... علی، علی...ہائے رے، وہ پیار، وہ قراردل کا سکون، وہ میرا یارآیا، وہ آیا، دل میں سما گیاسب کچھ لٹا کے، سب کچھ پا گیا
دیواریں گر گئیں، جو میرے اور اس کے درمیان تھیںاب تو صرف وہ سانسیں ہیں، جو اس کی امانت تھیںنہ کوئی فرق باقی، نہ کوئی اونچ نیچ رہیمحبت کی آگ میں، ہر ایک سوچ جل گئیمیں تھا تو بھٹکتا تھا، اب میں نہیں تو منزل ہےیہ کیسا کرم ہے، یہ کیسا حاصل ہے
وہ نور ہے، وہ روشنی، وہ میری ہر پکار ہےوہ عشق ہے، وہ بندگی، وہ میرا پروردگار ہےمٹ گئی دوری، اب وصل کا موسم آیاجس نے بھی دیکھا، وہ خود کو ہی بھول آیا
سب ختم ہوا، سب شروع ہواوہ ہی تو تھا، وہ ہی تو ہےجو دل میں بسا، وہ ہی تو ہےسب ختم ہوا، سب شروع ہوا
یا اللہ، یا نبی، یا عشقتیری یاد میں، یہ دنیا فانی ہےیہ تو بس، ایک کہانی ہےتیرا دیدار، میرا آخری ٹھکانہ ہے
خاموش ہوں اب میں، کوئی الفاظ نہیںاس کے سوا، کوئی بھی خاص نہیںوہ ہی ہے، وہ ہی ہےبس وہ ہی ہے، اب کچھ نہیںبس وہ ہی ہے...
وصل کا موسم
قلبِ نور
Preview