اے محبوبِ ربِ جلیل
صوفی کمال الدین چشتی
قوالی
About
یہ قوالی ایک گہرا روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی ڈرون آواز اور طبلے کی تھاپ کے ساتھ جذباتی عروج کو دکھایا گیا ہے۔ اس میں روایتی سوال و جواب کے انداز اور تالیوں کی گونج کے ذریعے وجدانی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔
Lyrics
مستی میں ڈوبا ہے جہانِ فانیتیرے عشق کی چھڑی ہے یہ کہانیکوئی سمجھے نہ یہ رازِ نہانیبس تیری ہی ذات ہے لافانی
در بدر پھرتے رہے ہم تیری تلاش میںاک پل نہ پایا سکون ہم نے اس تلاش میںخودی کو مٹایا تو تجھ کو پایاسارا جہان نظر آیا تیری ہی نگاہ میںدل کا آئینہ صاف کیا تو عکس تیرا دکھاہر ذرہ پکار اٹھا کہ تو ہی ہے عیاں
محبوبِ ربِ جلیل، اے میرے پیارے نبیتجھ پہ فدا ہے جان، تجھ پہ نثار سبھیتیرے در کا ہوں میں سوالی، اے میرے سروردے دے مجھے اب اپنے جلوؤں کی روشنی
ہو... حق... حق...ہو... حق... حق...تیرا نام ہی ہے میری زندگیتیرا عشق ہی ہے میری بندگی
وجد میں ہے روح، محوِ پرواز ہےخاموش لبوں پر تیرا ہی آواز ہےکائنات جھک گئی تیرے حضور میںتجھ سے ہی رونق، تجھ سے ہی ساز ہےمٹ گئی دوری، وصل کا ہے سماںتیرے قدموں میں بکھرا ہے سارا جہاں
بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری سانسوں میں تیرا ہی جادو ہےعشقِ نبی میں ڈوبے، اب نہ کوئی فکر ہےتیرے در پہ ہی ٹھکانہ، تیرا ہی ذکر ہےحق... حق... حق...تیرے ذکر میں ہی میری بقا ہےبس تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...
اے محبوبِ ربِ جلیل
صوفی کمال الدین چشتی
Preview