مٹی کی پہچان
دریا درویش
صوفی راک
About
یہ گانا روایتی صوفی کلام اور جدید راک موسیقی کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کی سریلی دھنوں کے ساتھ الیکٹرک گٹار کی ڈسٹارٹڈ آوازیں شامل ہیں۔ اس میں گلوکار کی جذباتی اور بلند آواز روحانی کیفیت کو اجاگر کرتی ہے، جو سامعین کو ایک وجدانی تجربے کی طرف لے جاتی ہے۔
Lyrics
میں کون ہوں، کیا ہوں، کہاں سے آیا ہوںاک بوند ہوں، دریا میں سماؤں گا
تلاش میں تیری، در بدر پھرتا رہاخود کو ڈھونڈنے، خود سے ہی لڑتا رہایہ دنیا اک دھوکا، یہ رنگ سارے فانیمیں نے لکھی ہے اپنی، الگ کہانیخاموشیوں میں تیری، صدا گونجتی ہےمیری روح تجھ سے ہی، اب تو مانگتی ہے
آنکھیں بند کروں تو، تو ہی تو دکھےدل کی گہرائیوں میں، بس تو ہی لکھے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیرے اندر بستا، تو ہی تو روشن ہےمیں تو مٹی ہوں، تو ہی میری پہچان ہےتجھ میں ہی کھونا، میری اصل جان ہے
میں نے چھوڑی ہے دنیا، تیرے لیے یاراںتو ہی ہے میرا مرکز، تو ہی ہے گلستاںنہ عبادت کا دعویٰ، نہ کوئی طلب ہےبس تیرے ہونے سے، میری یہ شب ہےمیں بکھر جاؤں تو، تو ہی سمیٹے گامیرا ہر ایک ذرہ، تجھ کو ہی ڈھونڈے گا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیرے اندر بستا، تو ہی تو روشن ہےمیں تو مٹی ہوں، تو ہی میری پہچان ہےتجھ میں ہی کھونا، میری اصل جان ہے
میں فنا ہوا، اب بقا ملی ہےتیری ہی خوشبو، ہر سو کھلی ہےنہ میں رہا، نہ میری کوئی ہستیتجھ میں ہی گم ہے، میری یہ بستیمٹا دے مجھے، اپنی چاہت میں ابمیں جی اٹھوں، تیری ہی قربت میں اب
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیرے اندر بستا، تو ہی تو روشن ہےمیں تو مٹی ہوں، تو ہی میری پہچان ہےتجھ میں ہی کھونا، میری اصل جان ہے
تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیرا سب کچھ، اب تو ہی تو ہےتجھ میں ہی کھونا...تجھ میں ہی ہونا...بس تو ہی تو ہے...
مٹی کی پہچان
دریا درویش
Preview