صحرا کا سفر
شایانِ نوید
Coke Studio Fusion
About
یہ گیت ایک جدید کوک اسٹوڈیو فیوژن تخلیق ہے جس میں روایتی طبلہ اور ستار کی دھنوں کو الیکٹرانک سنتھسائزر اور گہری صوتی پرکشن کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس میں ایک پر اثر گلوکارانہ کارکردگی شامل ہے جو صوفیانہ شاعری کو جدید سازوں کے ساتھ ایک جذباتی اور پروقار انداز میں پیش کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے در کی ہوا، میری سانسوں کا سفرخالی ہاتھوں میں ہے، بس تیری ہی خبر
راستے بھٹک گئے، منزلیں سو گئی ہیںمیری آنکھوں میں جو، یادیں تھیں کھو گئی ہیںصحراؤں کی تپش، یا سمندر کا شورتیرے ہونے سے ہے، دل کو کچھ اور طور
اک دھاگہ ہے جو، روح سے بندھا ہےیہ عشق نہیں، اک کٹھن سا راستہ ہے
توں ہی تو ہے، میری تنہائی کا حاصلتیرے بن جینا، اب لگتا ہے مشکلاے میرے مالک، سن لے یہ پکارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتامِ بہار
وقت کی لکیروں میں، نام تیرا لکھا ہےہر زرے میں تیرا، نور ہی دکھا ہےمٹی کے گھروندے، اور خوابوں کا کارواںتیرے عشق میں پایا، خود کو میں نے یہاں
شورِ محفل سے دور، اک خاموش صداتیرے نام کی تسبیح، میری ہر اک ادانہ کوئی فاصلہ، نہ کوئی اب حجابتیری دید ہی تو ہے، میرا اصل خواب
توں ہی تو ہے، میری تنہائی کا حاصلتیرے بن جینا، اب لگتا ہے مشکلاے میرے مالک، سن لے یہ پکارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتامِ بہار
تجھ پہ ہی اختتامِ بہارتجھ پہ ہی اختتامِ بہاربس تو ہی، بس تو ہیمیرے اندر کا قرار۔
صحرا کا سفر
شایانِ نوید
Preview