Skip to content
Duration3:30

صحرا کا سفر

شایانِ نوید

Coke Studio Fusion

About

یہ گیت ایک جدید کوک اسٹوڈیو فیوژن تخلیق ہے جس میں روایتی طبلہ اور ستار کی دھنوں کو الیکٹرانک سنتھسائزر اور گہری صوتی پرکشن کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس میں ایک پر اثر گلوکارانہ کارکردگی شامل ہے جو صوفیانہ شاعری کو جدید سازوں کے ساتھ ایک جذباتی اور پروقار انداز میں پیش کرتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کی ہوا، میری سانسوں کا سفرخالی ہاتھوں میں ہے، بس تیری ہی خبر

verse

راستے بھٹک گئے، منزلیں سو گئی ہیںمیری آنکھوں میں جو، یادیں تھیں کھو گئی ہیںصحراؤں کی تپش، یا سمندر کا شورتیرے ہونے سے ہے، دل کو کچھ اور طور

pre-chorus

اک دھاگہ ہے جو، روح سے بندھا ہےیہ عشق نہیں، اک کٹھن سا راستہ ہے

chorus

توں ہی تو ہے، میری تنہائی کا حاصلتیرے بن جینا، اب لگتا ہے مشکلاے میرے مالک، سن لے یہ پکارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتامِ بہار

verse

وقت کی لکیروں میں، نام تیرا لکھا ہےہر زرے میں تیرا، نور ہی دکھا ہےمٹی کے گھروندے، اور خوابوں کا کارواںتیرے عشق میں پایا، خود کو میں نے یہاں

bridge

شورِ محفل سے دور، اک خاموش صداتیرے نام کی تسبیح، میری ہر اک ادانہ کوئی فاصلہ، نہ کوئی اب حجابتیری دید ہی تو ہے، میرا اصل خواب

chorus

توں ہی تو ہے، میری تنہائی کا حاصلتیرے بن جینا، اب لگتا ہے مشکلاے میرے مالک، سن لے یہ پکارتجھ سے ہی شروع، تجھ پہ ہی اختتامِ بہار

instrumental-solo
outro

تجھ پہ ہی اختتامِ بہارتجھ پہ ہی اختتامِ بہاربس تو ہی، بس تو ہیمیرے اندر کا قرار۔

صحرا کا سفر

شایانِ نوید

Preview

صحرا کا سفر by شایانِ نوید | EchoLoRA: Generate a Song with AI