Skip to content
تیرے در کی آس
Duration6:50

تیرے در کی آس

عارفِ عشق

Qawwali

About

ایک جذباتی اور روحانی قوالی جس میں ہارمونیم کی گونج، طبلہ کی پیچیدہ تال، اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس ووکلز کا امتزاج ہے۔ یہ ٹریک ہاتھ کی تالیوں اور بڑھتے ہوئے کریسینڈو کے ساتھ سامعین کو ایک روحانی کیفیت میں لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی آس لگائے بیٹھا ہوںدامن پھیلا کر تیرے حضور میں، اپنی پیاس مٹائے بیٹھا ہوںتیری دید کی تڑپ، میرے سینے میں اک آگ بن کر دہکتی ہےمیں تو دیوانہ ہوں تیرا، تیرے نام کی تسبیح اٹھائے بیٹھا ہوں

verse

میں نے ڈھونڈا تجھے ہر سو، مگر تو تو میرے اندر تھامیری روح کی گہرائیوں میں، تیرا ہی تو ایک منظر تھامیں بھٹکتا رہا دنیا کی بھیڑ میں، خود سے ہی بیگانہ ہو کرمگر جب تجھ سے ملا، تو معلوم ہوا، تو ہی میرا رہبر تھا

chorus

محبوبِ ربِ کائنات، تیری الفت میں سب کچھ مٹا دوںتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، میں اپنی ہستی کو بھلا دوںاے عشقِ حقیقی، تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ایمان ہےتیرے نام پہ اپنی سانسوں کا، ہر ایک لمحہ لٹا دوں

verse

دنیا کے رشتے ناطے، سب سراب ہیں، سب دھوکہ ہیںتیری محبت ہی سچ ہے، باقی سب تو بس ایک جھونکا ہیںمیں نے توڑ دیے ہیں سب بت، جو میرے اور تیرے بیچ میں تھےاب تو بس تو ہی نظر آتا ہے، چاہے جہاں بھی دیکھوں، تیرا ہی عکاس ہے

improvisation

یا رب، میری تڑپ کو تو جانتا ہےیا رب، میری پکار کو تو مانتا ہےمیں تو خاک ہوں، تیرے قدموں کی دھول ہوںتیرے نور سے ہی روشن، میری یہ روحِ بے چین ہے

crescendo

تیرا جلوہ ہی کافی ہے، میرے زخموں کے مرہم کے لیےمیں تو دیوانہ وار بھاگتا ہوں، تیرے کرم کے لیےمیری روح پرواز کر رہی ہے، تیری قربت کی بلندیوں پراب نہیں کوئی خواہش، بس ایک دید ہو، اسی ایک موسم کے لیے

chorus

محبوبِ ربِ کائنات، تیری الفت میں سب کچھ مٹا دوںتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، میں اپنی ہستی کو بھلا دوںاے عشقِ حقیقی، تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ایمان ہےتیرے نام پہ اپنی سانسوں کا، ہر ایک لمحہ لٹا دوں

verse

خاموشی میں بھی تیرا ہی ذکر، میری دھڑکنوں میں ہےمیری ہر ایک سانس، اب تیری ہی یادوں کے حصار میں ہےمیں مٹا تو کیا، تیری ہستی میں ضم ہو گیا ہوں ابقطرہ بن کر گرا تھا، اب سمندر کا حصہ بن گیا ہوں میں

outro

تیرا ہی نام، میری آخری پکار ہوتیری ہی چوکھٹ، میرا آخری ٹھکانہ ہوعشق میں ڈوب کر، اب میں خود سے آزاد ہوںتیرے حضور میں، یہ سر بس جھکا رہے، یہی میرا جہان ہوبس تو ہی تو، بس تو ہی تو، تو ہی تو ہے...

تیرے در کی آس

عارفِ عشق

Preview