تیرے در کی آس
عارفِ عشق
Qawwali
About
ایک جذباتی اور روحانی قوالی جس میں ہارمونیم کی گونج، طبلہ کی پیچیدہ تال، اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس ووکلز کا امتزاج ہے۔ یہ ٹریک ہاتھ کی تالیوں اور بڑھتے ہوئے کریسینڈو کے ساتھ سامعین کو ایک روحانی کیفیت میں لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی آس لگائے بیٹھا ہوںدامن پھیلا کر تیرے حضور میں، اپنی پیاس مٹائے بیٹھا ہوںتیری دید کی تڑپ، میرے سینے میں اک آگ بن کر دہکتی ہےمیں تو دیوانہ ہوں تیرا، تیرے نام کی تسبیح اٹھائے بیٹھا ہوں
میں نے ڈھونڈا تجھے ہر سو، مگر تو تو میرے اندر تھامیری روح کی گہرائیوں میں، تیرا ہی تو ایک منظر تھامیں بھٹکتا رہا دنیا کی بھیڑ میں، خود سے ہی بیگانہ ہو کرمگر جب تجھ سے ملا، تو معلوم ہوا، تو ہی میرا رہبر تھا
محبوبِ ربِ کائنات، تیری الفت میں سب کچھ مٹا دوںتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، میں اپنی ہستی کو بھلا دوںاے عشقِ حقیقی، تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ایمان ہےتیرے نام پہ اپنی سانسوں کا، ہر ایک لمحہ لٹا دوں
دنیا کے رشتے ناطے، سب سراب ہیں، سب دھوکہ ہیںتیری محبت ہی سچ ہے، باقی سب تو بس ایک جھونکا ہیںمیں نے توڑ دیے ہیں سب بت، جو میرے اور تیرے بیچ میں تھےاب تو بس تو ہی نظر آتا ہے، چاہے جہاں بھی دیکھوں، تیرا ہی عکاس ہے
یا رب، میری تڑپ کو تو جانتا ہےیا رب، میری پکار کو تو مانتا ہےمیں تو خاک ہوں، تیرے قدموں کی دھول ہوںتیرے نور سے ہی روشن، میری یہ روحِ بے چین ہے
تیرا جلوہ ہی کافی ہے، میرے زخموں کے مرہم کے لیےمیں تو دیوانہ وار بھاگتا ہوں، تیرے کرم کے لیےمیری روح پرواز کر رہی ہے، تیری قربت کی بلندیوں پراب نہیں کوئی خواہش، بس ایک دید ہو، اسی ایک موسم کے لیے
محبوبِ ربِ کائنات، تیری الفت میں سب کچھ مٹا دوںتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، میں اپنی ہستی کو بھلا دوںاے عشقِ حقیقی، تو ہی میری منزل، تو ہی میرا ایمان ہےتیرے نام پہ اپنی سانسوں کا، ہر ایک لمحہ لٹا دوں
خاموشی میں بھی تیرا ہی ذکر، میری دھڑکنوں میں ہےمیری ہر ایک سانس، اب تیری ہی یادوں کے حصار میں ہےمیں مٹا تو کیا، تیری ہستی میں ضم ہو گیا ہوں ابقطرہ بن کر گرا تھا، اب سمندر کا حصہ بن گیا ہوں میں
تیرا ہی نام، میری آخری پکار ہوتیری ہی چوکھٹ، میرا آخری ٹھکانہ ہوعشق میں ڈوب کر، اب میں خود سے آزاد ہوںتیرے حضور میں، یہ سر بس جھکا رہے، یہی میرا جہان ہوبس تو ہی تو، بس تو ہی تو، تو ہی تو ہے...
تیرے در کی آس
عارفِ عشق
Preview