وصلِ فنا
مجنوں مسافر
قوالی فیوژن
About
یہ ٹریک روایتی صوفیانہ قوالی اور جدید الیکٹرانک بیٹس کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں ہارمونیم کی گہری دھنیں اور طبلے کی تھاپ کے ساتھ جدید سنتھیسائزر کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں پرجوش تالیوں کی آواز اور روحانی وجد سے بھرپور صوتی تجربہ شامل ہے جو سننے والے کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری روح کی پیاس، بس تیری ہی عطا ہےسجدوں میں کھویا، خود سے میں دور ہواتیری محبت کا نور، مجھ میں ہی بسا ہے
میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر رہاتیرے راستوں کی تلاش میں، میں مٹا رہاکبھی ڈھونڈا اسے مے کدوں کی گلی میںکبھی سجدوں میں خود کو ہی میں نے پایایہ کیسا نشہ ہے، یہ کیسا جنون ہےتیری یادوں کا ہر پل، میرے خون میں ہے
مجھ میں تو ہی تو، تجھ میں میں کہاں ہوںمیں تو خود کو کھو کر، تجھ میں ہی رواں ہوںیہ عشق کی آگ، یہ وصل کا راستہمیں تیرے ہی رنگ میں، اب تو رنگ گیا ہوں
کبھی سوچا نہ تھا، یوں بدل جائے گا سبمیری ہستی کا ہر ذرہ، تجھ سے ہے لبریز ابنہ کوئی فاصلہ، نہ کوئی اب حجاب ہےتیرے قدموں میں ہی، میری کل کائنات ہےمیں تو مٹی تھا، تیری نظر نے مجھے رنگ دیامیری ویران روح کو، تو نے ہی ڈھنگ دیا
ہائے رے عشق، تیرا یہ کیسا مقام ہےلٹ گئے ہم، پر سکونِ دل کا انعام ہےحق، حق، حق، تیری ہی پکار ہےمیری سانسوں میں، تیرا ہی شمار ہے
مجھ میں تو ہی تو، تجھ میں میں کہاں ہوںمیں تو خود کو کھو کر، تجھ میں ہی رواں ہوںیہ عشق کی آگ، یہ وصل کا راستہمیں تیرے ہی رنگ میں، اب تو رنگ گیا ہوں
تیرے بن، میں کچھ بھی نہیںتیرے بن، میں کچھ بھی نہیںتجھ میں ہی فنا، تجھ میں ہی بقاتیرے بن، میں کچھ بھی نہیں
یہ دنیا کے قصے، یہ جھوٹے سے ناطےسب ختم ہوئے، جب تجھ کو پایا ہم نےاب نہ کوئی فکر، نہ کوئی اب کھوج ہےتیری ذات ہی، میری آخری موج ہےدل کی دھڑکنوں میں، تیرا ہی ذکر ہےمیری ہر دعا، تیرا ہی شکر ہے
مجھ میں تو ہی تو، تجھ میں میں کہاں ہوںمیں تو خود کو کھو کر، تجھ میں ہی رواں ہوںیہ عشق کی آگ، یہ وصل کا راستہمیں تیرے ہی رنگ میں، اب تو رنگ گیا ہوں
مستی میں ڈوبے، سُدھ بدھ کھوئیتیرے عشق میں، اب تو دنیا بھی سوئیحق، حق، حق، بس تیرا ہی نام ہےمیرا سب کچھ، تیرے ہی نام ہے
میں مٹا، میں بنا، میں تجھ میں ہی کھو گیاتیرا ہی عکس، اب تو ہر جگہ ہو گیابس تو ہی تو، بس تو ہی تومیں تو مٹ گیا، بس تو ہی تو
وصلِ فنا
مجنوں مسافر
Preview