بکھرے ہوئے لمحے
قمرالزمان
غزل
About
یہ غزل ایک گہرا اور جذباتی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس کے ذریعے شاعر کے درد اور تنہائی کو انتہائی نفاست سے پیش کیا گیا ہے، جو سامعین کو ایک پرسکون اور فکر انگیز ماحول میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
ابھی کچھ خواب باقی ہیں، ابھی کچھ رنگ باقی ہیںمرے بکھرے ہوئے لمحوں میں کچھ تو ڈھنگ باقی ہیں
کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں وہ پہلی سی کہانی ابکتابِ دل کے ہر صفحے پہ بس کچھ زنگ باقی ہیںوہ جن کو ہم نے سمجھا تھا کہ اپنے ہیں زمانے میںانہی کے دل میں میرے واسطے اب سنگ باقی ہیں
یہ کیسا موڑ آیا ہے کہ جینا بوجھ لگتا ہےمحبت کی عدالت میں فقط کچھ رنگ باقی ہیںمرے بکھرے ہوئے لمحوں میں کچھ تو ڈھنگ باقی ہیں
وہ رستے جن پہ چلتے تھے، وہ پیڑوں کی گھنی چھاؤںوہیں اب یاد کے بادل، وہیں کچھ تنگ باقی ہیںمیں خود کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں ویران گلیوں میںجہاں اب بھی مری سوچوں کے کچھ تو سنگ باقی ہیں
یہ کیسا موڑ آیا ہے کہ جینا بوجھ لگتا ہےمحبت کی عدالت میں فقط کچھ رنگ باقی ہیںمرے بکھرے ہوئے لمحوں میں کچھ تو ڈھنگ باقی ہیں
جو آنسو پلکوں پہ ٹھہرے تھے، وہ اب تک سوکھتے کیوں ہیںدعا کے ہاتھ میں اب بھی وہی اک تنگ باقی ہیںترا ذکرِ مسلسل ہی مرے جینے کا حاصل تھامگر اب خامشی میں بھی وہی آہنگ باقی ہیں
ستم تو یہ ہے کہ ہم نے خود ہی دیواریں بنا ڈالیںمگر اب بھی مرے کمرے میں وہ سب رنگ باقی ہیںیہ دنیا ہے کہ جیسے ایک ادھورا سا کوئی قصہسنائیں کس کو ہم جب تک کہ کوئی سنگ باقی ہیں
یہ کیسا موڑ آیا ہے کہ جینا بوجھ لگتا ہےمحبت کی عدالت میں فقط کچھ رنگ باقی ہیںمرے بکھرے ہوئے لمحوں میں کچھ تو ڈھنگ باقی ہیں
ابھی کچھ خواب باقی ہیں، ابھی کچھ رنگ باقی ہیںسفر تھک سا گیا ہے اب، مگر کچھ ڈھنگ باقی ہیںبس کچھ رنگ باقی ہیں...بس کچھ ڈھنگ باقی ہیں۔
بکھرے ہوئے لمحے
قمرالزمان
Preview