Skip to content
Duration4:50

بکھرے ہوئے لمحے

قمرالزمان

غزل

About

یہ غزل ایک گہرا اور جذباتی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس کے ذریعے شاعر کے درد اور تنہائی کو انتہائی نفاست سے پیش کیا گیا ہے، جو سامعین کو ایک پرسکون اور فکر انگیز ماحول میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

ابھی کچھ خواب باقی ہیں، ابھی کچھ رنگ باقی ہیںمرے بکھرے ہوئے لمحوں میں کچھ تو ڈھنگ باقی ہیں

verse

کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں وہ پہلی سی کہانی ابکتابِ دل کے ہر صفحے پہ بس کچھ زنگ باقی ہیںوہ جن کو ہم نے سمجھا تھا کہ اپنے ہیں زمانے میںانہی کے دل میں میرے واسطے اب سنگ باقی ہیں

refrain

یہ کیسا موڑ آیا ہے کہ جینا بوجھ لگتا ہےمحبت کی عدالت میں فقط کچھ رنگ باقی ہیںمرے بکھرے ہوئے لمحوں میں کچھ تو ڈھنگ باقی ہیں

verse

وہ رستے جن پہ چلتے تھے، وہ پیڑوں کی گھنی چھاؤںوہیں اب یاد کے بادل، وہیں کچھ تنگ باقی ہیںمیں خود کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں ویران گلیوں میںجہاں اب بھی مری سوچوں کے کچھ تو سنگ باقی ہیں

refrain

یہ کیسا موڑ آیا ہے کہ جینا بوجھ لگتا ہےمحبت کی عدالت میں فقط کچھ رنگ باقی ہیںمرے بکھرے ہوئے لمحوں میں کچھ تو ڈھنگ باقی ہیں

instrumental-break
verse

جو آنسو پلکوں پہ ٹھہرے تھے، وہ اب تک سوکھتے کیوں ہیںدعا کے ہاتھ میں اب بھی وہی اک تنگ باقی ہیںترا ذکرِ مسلسل ہی مرے جینے کا حاصل تھامگر اب خامشی میں بھی وہی آہنگ باقی ہیں

verse

ستم تو یہ ہے کہ ہم نے خود ہی دیواریں بنا ڈالیںمگر اب بھی مرے کمرے میں وہ سب رنگ باقی ہیںیہ دنیا ہے کہ جیسے ایک ادھورا سا کوئی قصہسنائیں کس کو ہم جب تک کہ کوئی سنگ باقی ہیں

refrain

یہ کیسا موڑ آیا ہے کہ جینا بوجھ لگتا ہےمحبت کی عدالت میں فقط کچھ رنگ باقی ہیںمرے بکھرے ہوئے لمحوں میں کچھ تو ڈھنگ باقی ہیں

outro

ابھی کچھ خواب باقی ہیں، ابھی کچھ رنگ باقی ہیںسفر تھک سا گیا ہے اب، مگر کچھ ڈھنگ باقی ہیںبس کچھ رنگ باقی ہیں...بس کچھ ڈھنگ باقی ہیں۔

بکھرے ہوئے لمحے

قمرالزمان

Preview

بکھرے ہوئے لمحے by قمرالزمان | EchoLoRA: Generate a Song with AI