مٹی کی داستان
سحرِ آشوب
پاکستانی راک
About
یہ گانا ایک طاقتور پاکستانی راک فیوژن ہے جس میں بھاری گٹار ڈسٹورشن اور روایتی طبلے کی تھاپ کا امتزاج ہے۔ اس کے بول سماجی حقیقت نگاری اور ذاتی جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں مشرقی راگوں پر مبنی ووکلس مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
Lyrics
دھند کے اس پار کوئی شہر بستا ہےجہاں سچ بولنا اب جرم لگتا ہےہاتھوں میں میرے خالی لکیریں ہیںآنکھوں میں میری اب بھی وہی تیریں ہیںراستہ کٹھن ہے، قدم لڑکھڑاتے ہیںپر ہم تو اپنی دھن میں گنگناتے ہیں
دیواروں پر لکھی تحریریں پڑھ لوخاموشی کے پیچھے کی تصویریں پڑھ لوہم نے تو سوچا تھا بدلیں گے حالاتاب تو بس قصے ہیں اور پرانی راتمٹھی میں بند ہے کچھ ٹوٹا ہوا خوابکس سے کریں اب ہم کوئی بھی حساب
شور ہے ہر طرف، کوئی سنتا نہیںزخم گہرے ہیں پر، کوئی بھرتا نہیںیہ زنجیریں توڑ کر اب آگے بڑھنا ہےہمیں تو اپنے ہی سائے سے لڑنا ہے
یہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائےجہاں روشنی بھی اندھیرے سے گھبرائےہمیں تو بس اپنی پہچان لکھنی ہےمٹی پہ خون سے داستان لکھنی ہےیہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائے
گلیوں میں پھرتی ہے اب بے بسی سیہوا میں گھلی ہے کوئی خاموشی سیسب کے لبوں پہ تالے پڑے ہیں کیوںاپنے ہی گھر میں ہم کھڑے ہیں کیوںوقت کی نبض پہ ہاتھ رکھ کے دیکھواپنی ہی روح کا سراغ پا کے دیکھو
شور ہے ہر طرف، کوئی سنتا نہیںزخم گہرے ہیں پر، کوئی بھرتا نہیںیہ زنجیریں توڑ کر اب آگے بڑھنا ہےہمیں تو اپنے ہی سائے سے لڑنا ہے
یہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائےجہاں روشنی بھی اندھیرے سے گھبرائےہمیں تو بس اپنی پہچان لکھنی ہےمٹی پہ خون سے داستان لکھنی ہےیہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائے
گرتے ہوئے تنکوں کا سہارا بنیں گےبجھتی ہوئی شمع کا شعلہ بنیں گےہم رکیں گے نہیں، ہم جھکیں گے نہیںحق کی لڑائی میں ہم تھکیں گے نہیں
دھوپ میں جلتے ہوئے، چھاؤں کی تلاش ہےدل کے کسی کونے میں، اب بھی کوئی کاش ہےہم تو مسافر ہیں، منزل کی جستجو میںکھوئے ہوئے خود کو، پا لیں گے اس لہو میں
یہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائےجہاں روشنی بھی اندھیرے سے گھبرائےہمیں تو بس اپنی پہچان لکھنی ہےمٹی پہ خون سے داستان لکھنی ہےیہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائے
داستان لکھنی ہے...بس پہچان لکھنی ہے...روشنی آئے گی...یہ رات جائے گی...یہ رات جائے گی...
مٹی کی داستان
سحرِ آشوب
Preview