Skip to content
Duration3:55

مٹی کی داستان

سحرِ آشوب

پاکستانی راک

About

یہ گانا ایک طاقتور پاکستانی راک فیوژن ہے جس میں بھاری گٹار ڈسٹورشن اور روایتی طبلے کی تھاپ کا امتزاج ہے۔ اس کے بول سماجی حقیقت نگاری اور ذاتی جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں مشرقی راگوں پر مبنی ووکلس مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

Lyrics

intro
verse

دھند کے اس پار کوئی شہر بستا ہےجہاں سچ بولنا اب جرم لگتا ہےہاتھوں میں میرے خالی لکیریں ہیںآنکھوں میں میری اب بھی وہی تیریں ہیںراستہ کٹھن ہے، قدم لڑکھڑاتے ہیںپر ہم تو اپنی دھن میں گنگناتے ہیں

verse

دیواروں پر لکھی تحریریں پڑھ لوخاموشی کے پیچھے کی تصویریں پڑھ لوہم نے تو سوچا تھا بدلیں گے حالاتاب تو بس قصے ہیں اور پرانی راتمٹھی میں بند ہے کچھ ٹوٹا ہوا خوابکس سے کریں اب ہم کوئی بھی حساب

pre-chorus

شور ہے ہر طرف، کوئی سنتا نہیںزخم گہرے ہیں پر، کوئی بھرتا نہیںیہ زنجیریں توڑ کر اب آگے بڑھنا ہےہمیں تو اپنے ہی سائے سے لڑنا ہے

chorus

یہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائےجہاں روشنی بھی اندھیرے سے گھبرائےہمیں تو بس اپنی پہچان لکھنی ہےمٹی پہ خون سے داستان لکھنی ہےیہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائے

verse

گلیوں میں پھرتی ہے اب بے بسی سیہوا میں گھلی ہے کوئی خاموشی سیسب کے لبوں پہ تالے پڑے ہیں کیوںاپنے ہی گھر میں ہم کھڑے ہیں کیوںوقت کی نبض پہ ہاتھ رکھ کے دیکھواپنی ہی روح کا سراغ پا کے دیکھو

pre-chorus

شور ہے ہر طرف، کوئی سنتا نہیںزخم گہرے ہیں پر، کوئی بھرتا نہیںیہ زنجیریں توڑ کر اب آگے بڑھنا ہےہمیں تو اپنے ہی سائے سے لڑنا ہے

chorus

یہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائےجہاں روشنی بھی اندھیرے سے گھبرائےہمیں تو بس اپنی پہچان لکھنی ہےمٹی پہ خون سے داستان لکھنی ہےیہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائے

bridge

گرتے ہوئے تنکوں کا سہارا بنیں گےبجھتی ہوئی شمع کا شعلہ بنیں گےہم رکیں گے نہیں، ہم جھکیں گے نہیںحق کی لڑائی میں ہم تھکیں گے نہیں

tabla-solo
guitar-solo
bridge

دھوپ میں جلتے ہوئے، چھاؤں کی تلاش ہےدل کے کسی کونے میں، اب بھی کوئی کاش ہےہم تو مسافر ہیں، منزل کی جستجو میںکھوئے ہوئے خود کو، پا لیں گے اس لہو میں

chorus

یہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائےجہاں روشنی بھی اندھیرے سے گھبرائےہمیں تو بس اپنی پہچان لکھنی ہےمٹی پہ خون سے داستان لکھنی ہےیہ کیسا سفر ہے، کہاں لے کے جائے

outro

داستان لکھنی ہے...بس پہچان لکھنی ہے...روشنی آئے گی...یہ رات جائے گی...یہ رات جائے گی...

مٹی کی داستان

سحرِ آشوب

Preview