روح کی پیاس، دل کی صدا
استاد عاشقِ ازل قوال
قوالی
About
یہ قوالی ہارمونیم کی گونج اور طبلے کی تھاپ کے ساتھ ایک روحانی سفر کا آغاز کرتی ہے، جس میں روایتی سوال و جواب کے انداز میں وجدانی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ اس میں انسانی جذبات کی انتہا اور وحدانیت کے تصور کو بھرپور صوتی توانائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہے میری پہچاناے نورِ ازل، تجھ پر قربان میری جانمیری روح کی پیاس، میرے دل کی صداتو ہی ہے میرا مالک، تو ہی ہے میرا خدا
میں ڈھونڈتا ہوں تجھے، اپنی ہی ذات کے اندرتو چھپا ہے ہر ذرے میں، بن کر ایک سمندرکبھی مے خانے کی گلیوں میں، کبھی سجدوں میںکبھی ڈھونڈتا ہوں تجھے، اپنوں اور بیگانوں میںیہ زندگی تو بس، ایک خوابِ پریشاں ہےمیری سانسوں کی تسبیح، بس تیرا ہی احسان ہے
تجھ سے ہی آغاز ہے، تجھ پر ہی اختتاماے میرے مولیٰ، لبوں پر بس تیرا ناممیں فنا ہو جاؤں، تیری چاہت کی آگ میںکھو جاؤں کہیں، تیری رحمت کے راگ میں
ہو حق، ہو حق، دل پکارے ہو حقذرہ ذرہ گواہی دے، ہو حق، ہو حقتُو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطنتیری یاد میں جلتا، یہ میرا من
عشق کی آگ میں، خود کو جلا کر آیا ہوںمیں تو اپنی ہستی کو، مٹا کر آیا ہوںکوئی نہیں میرا، تیرے سوا اس جہاں میںمیں بس تیرا ہوں، تیرے ہی کارواں میںمستی میں ڈوب کر، اب تجھ کو پکارتا ہوںتیری دید کی خاطر، ہر پل سنوارتا ہوں
تجھ سے ہی آغاز ہے، تجھ پر ہی اختتاماے میرے مولیٰ، لبوں پر بس تیرا ناممیں فنا ہو جاؤں، تیری چاہت کی آگ میںکھو جاؤں کہیں، تیری رحمت کے راگ میں
بس تو ہی، بس تو ہیمیری روح کا سکون، بس تو ہیمیں مٹا، میں مٹا، تجھ میں سما گیاتیرا ہی رنگ، مجھ پر چھا گیابس تو ہی، بس تو ہی۔
روح کی پیاس، دل کی صدا
استاد عاشقِ ازل قوال
Preview